156

افسانہ ۔۔۔۔۔ اجازت

میں نے ایسی کیا بات کہہ دی جس پر انہوں نے مجھے ایسے تھپڑ ہی دے مار ا۔۔ نوشابہ نے روتے ہوئے سوچا۔۔ ابھی نوشابہ کی شاہد کے ساتھ شادی کو چند روز ہی تو گزرے تھے، ان گزرے دنوں میں کبھی ایسی بات نہیں ہوئی تھی جس سے نوشابہ کو اندازہ ہوتا کہ شاہد کبھی اس طرح غصہ بھی کر سکتا ہے۔
نوشابہ نے گریجویشن کی ڈگری حاصل ہی کی تھی کہ محلے کے ایک گھر سے رشتہ آیا، ماسٹر دین محمد کا بیٹا شاہد سب کا دیکھا بھالا تھا، اس لیے رشتہ فوراً قبول بھی کر لیا گیا، چند روز میں ہی نوشابہ محلے کے ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو گئی، ابتدائی دن اتنے اچھے گزرے کہ نوشابہ اپنے والدین کا گھر بھی بھول گئی۔۔ آج اچانک شاہد گھر آیا تو اس کا موڈ کچھ اچھا نہیں تھا، آتے ہی اس نے پانی مانگا۔۔ پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑتے ہی شاہد نے ناگواری سے پوچھا گلاس پکڑانا نہیں آتا؟
نوشابہ نے بس یہ پوچھ لیا کیا ہوا شاہد؟
بس شاہد نے کھڑے ہو کر اس کو تھپڑ جڑ دیا، کم وسائل کے باوجودماں باپ کے نازوں میں پلی نوشابہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ شاہد اس طرح کا رویہ بھی اپنا سکتا ہے۔ میں اپنے گھر چلی جاتی ہوں پھر شاید ان کی عقل ٹھکانے آئے، نوشابہ نے سوچا۔۔ پھر تصور میں اپنے ماں باپ کے پریشان چہرے دکھائی دیئے تو اس نے گھر جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔نوشابہ کے والد کاشان علی بھی سرکاری ملازم تھے اور بس اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھا ہوا تھا ورنہ ان کے حالات بھی کچھ اتنے اچھے نہ تھے کہ وہ بیاہی بیٹی کا بوجھ بھی اٹھاسکتے۔
نوشابہ نے سوچا شاید اس کے شوہر پر کام کا کچھ دبائو ہو جس کے نتیجہ میں یہ ہو گیا۔ اس لیے اس برے حادثے کو بھلا دینا ہی بہتر ہو گا، اس نے فوری طور پر چائے بنائی اور واپس صحن میں پہنچی، وہاں شاہد نہیں تھا۔۔ گھر کے ہر کمرے میں جھانکا مگر وہ گھر میں ہوتا تو ملتا۔۔ وہ جس کے باعث غصہ میں تھا اسی کے گھر جانے کی جلدی تھی۔
ماسٹر دین محمد نے جب اپنے بیٹے کو نوشابہ کے ساتھ رشتہ پکا ہونے کا بتایا تو وہ باپ کے احترام میں انہیں یہ نہیں بتا سکا کہ وہ اپنے دفتر کی ساتھی فرزین کے ساتھ پیار کرتا ہے۔ وہ پیار میں بہت آگے جا چکا ہے، لیکن اب کیا ہوسکتا تھاشادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں، یہ سب کچھ اتنی جلدی ہواکہ خود اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔۔ دفتر میں بھی اس نے اس وقت شادی کی اطلاع سب کو دی جب باس نے چھٹی دے دی۔اس نے کن اکھیوں سے فرزین کی جانب دیکھا تو وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر چلی گئی۔
اس رات فرزین اور شاہد کی فون پر شدید جھڑپ ہوئی، جس کے بعد فرزین نے اسے کہہ دیا آئندہ مجھے فون کرنے کی ضرورت نہیں، آج کے بعد ہم صرف دفتر کے ساتھی ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔
شاہد نے بھی جب شادی کی رات نوشابہ کو دیکھا تو فرزین کیا، سب کو بھول بیٹھا۔ وہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ با حیا بھی تھی۔ دونوں بے خیالی میں ایک دوسرے سے عہد وپیمان باندھ بیٹھے۔ نوشابہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی سمجھ رہی تھی۔۔ کچھ ایسا ہی حال شاہد کا بھی تھا۔ اس نے کئی زاویوں سے سوچانوشابہ کوفرزین سے ہر طرح بہتر پایا۔۔ پھر وہ ہنی مون پر چلے گئے۔زندگی کتنی حسین لگ رہی تھی۔ واپسی کا دل ہی نہیں کر رہا تھا مگر کیا کریں نوکری تو کرنا ضروری ہے صرف پیار سے تو پیٹ نہیں بھرا جاتا۔
میں آج دفتر نہیں جائوں گا، کوئی بہانہ بنا دیتا ہوں، شاہد نے پیار سے نوشابہ کا ہاتھ پکڑ کے کہا
نہیں کوئی بہانہ نہیں کام بہت ضروری ہے، سب سے ضروری چیز ہے کام۔۔ پیار کے لیے زندگی پڑی ہے، نوشابہ نے پیار سے کہا
نوشابہ نے زبردستی اسے تیار کیا، اسے بھی آخر گرہستی سنبھالنا تھی۔ جو کچھ اپنے والدہ اور نانی سے سیکھا تھا اس نے پہلے دن کے کھانے میں اس کی جھلک دکھادی، ساس سسر توبے اختیار اس کے سلیقے کے گرویدہ ہو گئے۔
ادھر دفتر میں سارا دن شاہد کے سامنے فرزین کا اداس اور ویران چہرہ رہا، شام کو جب شاہد واپس آیا تو وہ فرزین کا دکھی چہرہ اس کے حواسوں پر سوار تھا، سارا دن فرزین اسے خالی آنکھوں سے دیکھتی رہی تھی، شاہد نے غور سے دیکھا تو اس کی آنکھیں رو رو کے سوجی ہوئی تھیں۔
سارا دن وہ فرزین کے اداس چہرے میں کھو کر خود بھی اداس ہو چکاتھا لیکن جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا، والدہ نے اس کا ماتھا چوم لیا۔۔ کہنے لگیں۔۔ تم خوش نصیب ہو، اتنی سلیقہ شعار بیوی ملی ہے، پہلی بار کھانا کھلایا ہے تو آج تمہارے ابا بھی انگلیاں چاٹ رہے تھے۔ وہ باتیں کر ہی رہی تھیں کہ نوشابہ چائے کا کپ تھامے وہیں آ گئی۔ امی ۔۔ آپ کی چائے۔۔ ارے ، آپ آ گئے، رکئے میں آپ کے لیے بھی چائے لے آئوں۔
شاہد بس اس کا دمکتا چہرہ دیکھتے ہی فرزین کا اداس چہرہ بھول گیا، اس کی اداسی بھی ہوا ہو گئی۔ چائے پی کر طبیعت بالکل ہشاش بشاش ہو گئی۔ پھر تمام گھر والے شام کو کھانے کے بعد آئس کریم کھانے بھی گئے۔ ماسٹر دین محمد نے بہو کو اچھا کھانا پکانے پر انعام بھی دیا۔
شاہد نے سوچا ۔ فرزین کو بھول جانا ہی بہتر ہے۔۔ساری رات یہی سوچتا رہا، خواب میں بھی دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی گھومتے رہے۔ صبح تک شاہد کو لگا وہ فرزین کو بھلا چکا۔ دوپہر کے کھانے کے وقت جب سب کھانا کھا رہے تھے فرزین نے آہستہ سے پوچھا وہ بہت خوبصورت ہے؟
نہیں۔۔ وہ۔۔ ہاں۔۔ شاہد اس اچانک سوال پر گڑ بڑا گیا۔۔ وہ اتنی خوبصورت ہے کہ تم نے مجھے بھی بھلا دیا؟ اس میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں؟ اس نے روتی آنکھوں کے ساتھ ایک سانس میں کتنے ہی سوال کر ڈالے۔
شاہد کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا، وہ اپنی میز پر واپس جا کے بیٹھ گیا۔ اچانک موبائل فون پر میسج آ گیا۔۔
آج شام کو میرے گھر آ سکتے ہو؟ ۔۔ یہ فرزین کا ایس ایم ایس تھا۔۔ شاہد لکھنا چاہتا تھا ۔نہیں۔ لیکن ہاتھ نہیں مانا اور اس نے لکھ دیا ضرور۔۔
شام کو جب دفتر سے نکلا تو اس نے سوچاوہ فرزین کے گھر جانے کے بجائے اپنے ہی گھر جائے گا، وہ اب کسی مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔۔ دل چاہتا تھا وہ فرزین کے گھر جائے اور دیکھے وہ اب کیسے جی رہی ہے مگر ذہن کہتا تھا اب اسے اس عورت کو ماضی بنا دینا چاہئے، اپنے گھر میں خوش رہنا چاہئے۔
گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ دوسری جانب سے فرزین بھی دروازہ کھول کے بیٹھ گئی۔۔ فرزین کے گھر پہنچنے تک دونوں کچھ نہیں بولے۔۔ گھر پہنچتے ہی فرزین نے شاہد کے گئیر پر رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور بولی آ جائو۔۔
بس ۔ شاہد سب کچھ بھول گیا۔۔ گھر میں داخل ہوا تو اب بھی لائونج میں دیوار پر اسی کی تصویر لگی تھی۔
میری تصویر ابھی تک؟ شاہد نے پوچھا
میرے لیے تو آپ آج بھی سب کچھ ہیں، بس آپ نے ہی مجھے بھلا دیا۔۔ یہ کہتے ہی فرزین رو پڑی۔
بس یہی وہ کمزور لمحہ تھا جب شاہد اس کو چپ کروانے قریب گیا، دونوں جذبات میں بہہ گئے ۔۔ کچھ دیر میں جب شاہد کے حواس بحال ہوئے تو اس نے اپنے آپ کو دوراہے پر کھڑا پایا۔ فرزین سے بھی وہی وعدے کیے جو وہ نوشابہ سے کر چکا تھا۔۔
شام کو جب گھر پہنچا تو اپنے گھر کی رانی اسے زہر لگ رہی تھی، پانی لائی تو اس پر چیخ پڑا۔۔ اور واپس فرزین کے گھر پہنچ گیا۔۔ وہاں سے رات گئے گھر پہنچا تو نوشابہ کو پریشان پایا، وہ سیدھا کمرے میں گھس گیا
سنیں، آپ کے لیے کھانا لائوں؟ نوشابہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
کوئی ضرورت نہیں۔ میں کھا کر آیا ہوں۔۔ شاہدنے روکھے لہجے میں جواب دیا۔
نوشابہ کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ پوچھ لے کہ وہ کس بات پہ ناراض ہے۔۔ وہ تو اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اب بھی بھوکی ہے، شادی کے بعد سے اب تک اس نے شاہد کے ساتھ ہی کھانا کھایا تھا۔۔ وہ اس سے بہت سوال کرنا چاہتی تھی لیکن وہ تو دوسری جانب کروٹ لے کر سو بھی گیا تھا۔
وہ سوئی نہیں۔۔لیکن اس کے نصیب سو چکے تھے۔۔ صبح اس کی جیسے ہی آنکھ لگی شاہد اٹھ گیا اور خاموشی سے دفتر بھی چلا گیا۔ نوشابہ کو سب چیزوں سے زیادہ افسوس اس بات کا تھاکہ وہ ناشتہ کیے بغیر چلا گیا۔شاہد نے دفتر میں ہی ناشتہ منگوایا اور فرزین کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ اب اسے ایک بار پھر شادی سے پہلے کی دنیا اچھی لگنے لگی تھی، اسے جانے کیوں فرزین کے ساتھ بیٹھ کر ایسا لگتا تھا کہ دنیا پرسکون ہو گئی ہے۔
وقت یونہی گزرتا رہا۔ ایک دن نوشابہ نے شاہد سے کہا بازار جانا ہے ، کچھ چیزیں لانا ہیں، اس پر شاہد پھٹ پڑا اور بولا جہاں جانا ہے جائو میرا دماغ نہ چاٹو۔۔
میں نے کیا کیا ہے؟ کس قصور کی اس طرح سزا دے رہے ہیں؟میرا جرم تو بتا دیں۔ نوشابہ بولی
جرم تمہارا نہیں لیکن قصور میرا بھی نہیں۔ سزا ہم دونوں بھگت رہے ہیں۔ شاہد بولا
پہیلیاں نہ بجھائیں، مجھے بتا ئیں میرا قصور کیا ہے۔۔ یا پھراپنے ہاتھوں سے میرا گلا گھوٹ دیں، نوشابہ روتے ہوئے بولی
نوشابہ مجھے غلط مت سمجھنا، میں شادی سے پہلے اپنے دفتر کی لڑکی سے پیار کرتا تھا ، شادی کے بعد کوشش کی اسے بھلانے کی مگر نہیں ہو سکا۔ اس لیے ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا، یا پھر ایسے ہی زندگی گزارنا چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ شاہد نے سپاٹ لہجے میں کہا
نوشابہ کو لگا کسی نے اچانک اس کے جسم سے گویا جان ہی نکال لی ہو۔وہ وہیں بیٹھ گئی گم سم، کوئی آنسوآنکھ سے نہیں نکلا ، آنکھیں تو گویا پتھرا سی گئی تھیں۔ وہ اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
شاہد بھی اٹھا اور دفتر چلا گیا۔ وہ سوچتا رہا ایسا کب تک چلے گا، آج اس کا ارادہ تھا کہ وہ نوشابہ سے دوسری شادی کی اجازت لے۔ یہی سوچ کر وہ جلدی گھر آ گیا، گھر آنے کے بعد جب وہ کمرے میں گیا تو اس نے اپنی تمام تر ہمت جمع کر کے نوشابہ کو اپنے قریب بلایا
مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں۔ تم نے میرا بہت خیال بھی رکھا لیکن میںکیا کروں میں دو کشتیو ں کا سوار ہوںایسے ساری زندگی گزارا نہیں ہو سکتا، شاہد نے کہا
مجھے بتائیے، میں کیا کر سکتی ہوں؟ نوشابہ نے سوال کیا
مجھے دوسری شادی کی اجازت دے دو۔۔ شاہد نے اچانک نوشابہ کے ہاتھ تھام کر کہا۔ اسے توقع تھی کہ نوشابہ اس بات پر ناراض ہو جائے گی مگر خلاف توقع اس نے کہا آپ کی خوشی میں ہی میری خوشی ہے، آپ جو چاہتے ہیں کیجئے مگر مجھے ٹھکرائیے گا نہیں۔۔
شاہد خوش ہو گیا۔ بولا: تم نے مجھے خرید لیا ہے۔ شام کو شاہد نے خود نوشابہ کو آئس کریم کھلانے کی پیشکش کی، گھوم گھام کر واپس آئے تو دونوں ہی تھکے ہوئے تھے، شاہد کو چائے کی طلب ہوئی تو نوشابہ فوراً چائے بنا لائی۔ چائے پینے کے بعد کچھ دیر وہ دونوں باتیں کرتے رہے، معلوم نہیں کب شاہد کی آنکھ لگ گئی۔
ٓصبح شاہد جب بیدار ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہ اپنے کمرے میں نہیں، اس نے نوشابہ کو آواز دینا چاہی تو نظر پڑی اپنی ماں پر ۔۔ وہ اس کے سرہانے بیٹھ کر رو رہی تھی۔۔ اس نے غور سے دیکھا تو وہ حیران رہ گیا۔۔ کیا دیکھتا ہے کہ وہ خود بستر پر لیٹا سو رہا ہے، اس کی نظریں نوشابہ کو ڈھونڈ رہی تھیں، وہ کمرے میں گیا وہ وہاں نہیں تھی، مرکزی دروازے پر کھڑی نوشابہ پر اس کی نظر پڑی۔۔ وہ رو نہیں رہی تھی اس کی آنکھوں میں فخر تھا۔۔ یہ سامنے کون کھڑا ہے۔۔ یہ تو محلے کا لڑکا ذیشان تھا۔۔ ذیشان کہہ رہا تھا میں نے کہا تھا ناں۔۔ کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔۔ اور شاہد میاں دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔۔چلو اب تم اندر جائو اور رونا شروع کر دو۔
یہ سنتے ہی نوشابہ اندر واپس آئی اور اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ بیٹھی ہوئی ساس سے لپٹ کر رونے لگی۔۔
Published @ newslaert.com.pk 26 October 2016
http://newsalert.com.pk/261016afsana-by-shehryarkhan/
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں