167

افسانہ ۔۔۔ تم سے محبت ہے

 آسیہ جانے کیا کیا خواب آنکھوں میں سجائے حجلہ عروسی میں بیٹھی تھی کہ اس کا جیون ساتھی آ کر گھونگھٹ اٹھا کر اس سے زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائے گا، یہ پیار بھری زندگی کیسے گزارنی ہے اس کی منصوبہ بندی ہوگی۔۔ ایسے میں اچانک کمرے کا دروازہ کھلا تو آسیہ کا جھکا ہوا سر مزید جھک گیا، سانسیں تیز ہوگئیں۔۔
مگر دروازہ بند ہونے کے باوجود جب وہ قریب نہ آیا تو آسیہ نے ہی اپنا سر اونچا کرکے اس کی جانب دیکھا، اس کی آنکھوں میں پیار ہی پیار تھا لیکن آنے والے نے ایک بار بھی بیوی کی جانب دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔
سنو۔۔ آصف نے پہلی بار بیوی کو مخاطب کیا تو مانئے آسیہ اپنے آپ میں ہی سمٹ کر رہ گئی۔
یہ ڈھونگ کرنے کی ضرورت نہیں، کپڑے بدل کر سو جاؤ ، والدین کے احترام کے لیے میں نے تم سے شادی کی ہے ورنہ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔ آصف کا ایک ایک لفظ ہتھوڑا بن کر اس کی سماعت سے ٹکرایا۔
کیا اسی لمحے کی خاطر میں نے ہر نماز کے بعد دعائیں کی تھیں، کیا میں نے اسی وقت کی خاطر اپنی پاکیزگی کو سنبھال کر رکھا تھا، آسیہ نے روتے روتے سوچا۔
صبح فجر کی نماز پڑھتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل گئی، باہر اس کے بوڑھے ساس سسر اتنی سویرے اپنی نئی نویلی بہو کو کمرے سے باہر دیکھ کر پریشان ہوگئے۔
بیٹا، اتنی جلدی کیوں اٹھ گئیں؟ سب خیر ہے ناں۔۔ ساس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔ جنہیں اپنے بیٹے کے دل کے حال کا علم تھا۔۔
جی بالکل۔۔ اللہ کا شکر ہے، میں تو آپ کے لیے ناشتہ بنانے آئی ہوں، آسیہ بولی تو ساس نے اٹھ کر اس کا ماتھا چوم لیا۔
نہیں میری جان ۔ ابھی نہیں، ابھی تو تمہارے ہاتھ کی مہندی بھی نہیں سوکھی۔۔ اتنی جلدی گھرداری نہیں۔۔
نہیں امی جان۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، شادی سے پہلے بھی میں یہی کرتی تھی، اب بھی اپنے ماں باپ کے لیے ہی تو ناشتہ بناؤں گی۔۔
بس اس جملے نے سارے گھر والوں کے دل جیت لیے۔۔ آصف جب اٹھا تو کمرے میں آسیہ کو نہ پا کر سمجھا وہ اپنے گھر چلی گئی ہے۔اس سوچ سے وہ گھبرا گیا۔ ہمت کرکے کمرے سے قدم باہر رکھاتو آسیہ کو ناشتہ میز پر لگاتے دیکھ کر وہ حیران ہوگیا۔یہ عورت یا تو پاگل ہے یا بہت ہوشیار ہے، اس نے سوچا
دن یونہی بیتتے گئے، آصف کمرے سے باہرسب کے سامنے آسیہ سے اچھے موڈ میں گپ شپ کرتا مگر کمرے میں آکر دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتے تھے۔
جانے وہ کون سی گھڑی تھی جب رات میں سوتے سوتے آصف نے آسیہ کو اپنی جانب کھینچ لیا، آسیہ کی تمام دعائیں پوری ہوگئیں، بنجر زمین پر کھل کر بارش برسی۔۔ سورج طلوع ہوا تو آصف کا لہجہ پھر ویسا ہی تھا،
سنو۔۔ جو کچھ بھی رات کو ہوا، اسے بھول جاؤ۔
جی بہتر۔۔ آسیہ نے خاموشی سے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
کچھ عرصہ بعد جب آسیہ نے خاموشی کے ساتھ اخبار پڑھتے آصف کو کاغذ تھمایا تو وہ سمجھا کوئی نیا بل ہے ۔ کاغذ پر لکھی تحریر سے گویا اسے بجلی کا جھٹکا ہی لگ گیا۔۔ وہ اخبار چھوڑ کر کھڑا ہوگیا۔ حیرانی سے آسیہ کو دیکھنے لگا
کیا ہوابیٹا؟ ماں نے بیٹا اور بہو کو اس طرح کھڑا دیکھ کر پریشان ہو کر پوچھا، آصف نے اپنی ماں کو وہ کاغذ تھما دیا، وہ تو میڈیکل لیبارٹری کی ٹیسٹ رپورٹ تھی، آصف باپ بننے والا تھا۔۔
کئی ماہ سے یہ خبر سننے کے لیے بے چین دادی نے سب کو گھر میں اکٹھا کر لیا۔۔ آنے والا بچہ بھی سب کی آنکھوں کا تارہ تھا۔۔ شام کو جب آصف بھی تھکا ہارا گھر آتا تو اپنے بیٹے کی شکل دیکھتے ہی ساری تھکن دور ہو جاتی۔۔
بیٹے کی پہلی سالگرہ کے لیے گھر جانے کے لیے آصف جوں ہی دفتر سے نکلا اسے خیال آیا کہ بیٹے کی پہلی سالگرہ کے لیے کوئی تحفہ نہیں لیا۔۔چلو ، جناح سپر مارکیٹ سے لے لیتا ہوں، آصف نے سوچا اور اگلے یو ٹرن سے موٹر سائیکل جونہی موڑی سامنے سے آنے والی تیز رفتار گاڑی اسے نظر ہی نہیں آئی ۔۔ بس ایک دھماکہ سنائی دیاجس کے بعد آصف ہوا میں کئی فٹ اچھلنے کے بعد سامنے سے آنے والی ایک اور گاڑی سے ٹکرایا۔۔ پھر اس کے بعد اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔
ہسپتال میں آنکھ کھلی تو دونوں ٹانگوں اور دائیں ہاتھ پر پلستر تھاجبکہ وہ سر ہلانے سے بھی قاصر تھا۔۔ بس لیٹے لیٹے ہی اس نے دیکھا آسیہ کی آنکھیں رو رو کے سوجی ہوئی تھیں اور دونوں ہاتھ دعا کے لیے بلند تھے۔۔ آج پہلی بار آصف کو اپنی بیوی پر پیار آگیا۔۔ مجبوری یہ تھی کہ اٹھ کے اسے گلے بھی نہیں لگا سکتا تھا، بس کافی دیر تک اسے پیار بھری نظروں سے تکتا رہا، یہ عورت کس مٹی کی بنی ہوئی ہے، میں نے اسے جس قدر پریشان کیا اسے تو میری موت کی دعائیں مانگنی چاہئیں مگر یہ ۔۔
آسیہ۔۔ اس نے کافی ہمت کرکے اسے آواز دی۔۔آسیہ نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے۔۔۔
میرے قریب آؤ، اس نے دھیرے سے کہا۔۔
آسیہ کی تو گویا زبان کو تالہ ہی لگ گیا تھا، اس سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔
میں بہت برا ہوں ناں، تمہیں بہت ستایا ہے میں نے، مجھے معاف کردو۔۔آصف نے دبی دبی سی آواز میں کہا
آپ برے نہیں، بس دن برے تھے، آسیہ نے بھی دھیرے سے کہا
بس ۔۔ اب وہ دن گزر گئے، آج سے میرا ایک ایک لمحہ تمہارا ہوا۔۔ آصف نے کہاتو آسیہ کو لگا جیسے ویرانے میں پھول کھل گئے ہیں۔ گھر جانے کے کئی ہفتے بعد تک آسیہ نے آصف کی اس طرح خدمت کی کہ اپنے آپ کو بھول گئی، بیٹے کا بھی ہوش نہیں رہا، ایک سالہ کامران نے بھی دادی میں اپنی ماں تلاش کرلی تھی۔
آصف جب صحت یاب ہونے کے بعد پہلے روز دفتر جانے لگا تو اس نے چپکے سے آسیہ کے کان میں کہا شام کو تیار رہنا آج ہم فلم دیکھنے جائیں گے، ڈنر بھی باہر ہی کریں گے، دو سالہ شادی شدہ زندگی میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب آسیہ کو محسوس ہوا کہ زندگی کی خوشیوں پر اس کا بھی حق ہے۔
شام کو تیار ہوتے وقت جونہی آسیہ نے گھڑی دیکھی ، اسے اچانک اپنے سر میں کوئی بوجھ سا محسوس ہوا، اس نے سنبھلنے کی کوشش کی مگر لا حاصل اور وہ زمین پر گر پڑی، ہوش آیا تو آصف اسے پریشان سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔ آسیہ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن نرس نے اسے اٹھنے سے روک دیا۔
پتہ نہیں میرے سر میں اچانک کوئی بوجھ سا محسوس ہوااور میں گر گئی۔۔ اب میں ٹھیک ہوں، مجھے گھر لے چلیں، آسیہ نے کہا
ابھی ڈاکٹر صاحب آئیں گے ، وہ اجازت دیں گے تو آپ گھر جاسکیں گی، نرس نے کہا
میں اب ٹھیک ہوں، ڈاکٹر کی کوئی ضرورت نہیں، آسیہ نے کہا تو آصف نے مسکرا کے کہا: تم بیمار نہیں ہو۔۔ بس تھک گئی ہو اس لیے بہتر ہے کہ یہاں لیٹی رہو اور مکمل آرام کرو۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور ڈاکٹر صاحب اندر آئے۔ آصف صاحب آپ میرے ساتھ آئیں۔ انہوں نے کہا
اپنے کمرے میں پہنچ کر ڈاکٹر صاحب نے طویل سانس لی اور کہنے لگے، آصف صاحب ۔ آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا۔ خبر بڑی بھی ہے اور بری بھی۔ ہم نے سی ٹی سکین اور دیگر ٹیسٹ کیے تھے جن کی رپورٹس آگئی ہیں۔اور یہ رپورٹس کچھ اچھی نہیں۔۔ میں نے کئی سینئر سرجن ڈاکٹرز سے بھی مشورہ کیا ہے لیکن سب کی رائے ہے کہ آپ کی بیوی کو برین ٹیومر ہے اور آپ نے آنے میں بھی دیر کر دی ہے۔ آخری مرحلہ ہے ، بس کوئی دوائی یا آپریشن بھی انہیں بچا نہیں سکتا۔ آئی ایم سوری
آصف کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کی سماعت پر ہتھوڑے برسا دیئے ہوں، ڈاکٹر صاحب مزید کچھ کہہ رہے تھے مگر وہ کمرے سے باہر جا چکا تھا۔۔ ساری زندگی جس نے کبھی آنکھوں سے پانی چھلکنے نہیں دیا۔۔ وہ آج بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔۔ اس عورت نے میری زندگی میں ہر طرح کا سکھ دیا مگر میں نے اسے کبھی سکھ چین کا ایک لمحہ بھی نہیں دیا۔ آج یہ جان لیوا بیماری بھی اسے اسی لیے لاحق ہوئی ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو صرف دکھ دیئے ہیں، میں ہی ہوں اس کا قاتل۔۔ ہاں۔ میں اپنی بیوی کا قاتل ہوں اور قاتل کی سزا موت ہوتی ہے۔
آصف خود کلامی کرتا ہوا، ہسپتال کی چھت پر پہنچ چکا تھا، میری سزا یہ ہے کہ میں تمہارے جانے سے پہلے وہاں پہنچ جاؤں اور دوسرے جہاں میں جا کر تمہارا انتظار کروں، وہاں میں تمہارا بہت خیال رکھوں گا، آصف نے دس منزلہ عمارت کی چھت سے چھلانگ مارتے ہوئے کہا۔۔ آسیہ مجھے تم سے محبت ہے۔

Published in Monthly Namood, Lahore (July 2016)
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں