86

زندگی اور موت کاسفر

یہ سن 2003 کی بات ہے میں ایک ایسے آپریشنل علاقے میں تعینات تھا جہاں ہمیں ہر وقت دشمن کی جانب سے جارحیت کا سامنا رہتا۔ کبھی راکٹ فائر ہوتے تو کبھی مارٹر کے گولوں سے ہمارے کیمپ کو نشانہ بنایا جاتا۔ اس علاقے میں پکی سڑک کا نام و نشان تک نہ تھا۔ البتہ ایک کچا راستہ تھا جو ہمارے ہیڈ کوارٹر تک جاتا۔ مجھے بطور کیمپ کمانڈر مہینے میں دو سے تین دفعہ ہیڈکوارٹر سے بلاوا آجایا کرتا۔ جبکہ کیمپ سے ہیڈ کوارٹر تک کا راستہ تقریباً ایک گھنٹے میں طے ہوتا تھا۔
اس کچے ٹریک پر ہمیں ایمبش (گھات لگائے دشمن) اور بارودی سرنگوں کا سامنا ہوتا۔ میرا قافلہ تین گاڑیوں پہ مشتمل ہوتا۔ سب سے آگے ایک سنگل کیبن گاڑی ہوتی، درمیان میں میری اپنی گاڑی اور آخر میں ایک گاڑی اور ہوتی۔ آخری دونوں گاڑیوں میں گھات لگائے دہشت گردوں سے مقابلے کیلئے چند جوان ہتھیاروں سے لیس ہوتے، جبکہ سب سے آگے چلنے والی گاڑی میں صرف ایک ڈرائیور ہوتا جس نے انٹی مائن سوٹ پہنا ہوتا اور اس کی گاڑی کے نیچے مخصوص دھات کی ایکسٹرا پلیٹس لگی ہوتیں تاکہ بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی صورت میں زیادہ نقصان نہ ہو۔ یہ یقیناً زندگی اور موت کا سفر ہوتا۔

مجھے ہمیشہ اپنے اس جوان کی فکر بھی رہتی مگر ہمیں سٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) کے تحت یہ کارروائی کرنا ہی پڑتی۔ مجھے یاد ہے کہ سخت گرمی میں بھی وہ بڑی خندہ پیشانی سے مخصوص لباس پہنتا جس کو پہن کر سردیوں میں بھی پسینہ آ جائے۔ جب وہ تیار ہو جاتا تو میں اسے گلے لگاتا اور اس کا حوصلہ بڑھاتا، اجتماعی دعا کے بعد سفر شروع ہوتا اور واپسی پہ دعائے تشکر ادا ہوتی۔ ہمارے قافلوں پہ دہشت گردوں کے متعدد حملے بھی ہوئے اور ہمارے افسروں اور جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ ہم وردی والے اس کو اپنا فرض تو سمجھتے ہی ہیں مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ دورانِ تربیت ہمیں ایسے ماحول کیلئے تیار بھی کیا جاتا ہے۔
آج سترہ سال بعد مجھے اپنے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف میں اسی ڈرائیور کی جھلک دکھائی دی۔ جب ٹی وی کے ایک پروگرام میں ہمارے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو کرونا وائرس میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے پروٹیکٹیو لباس میں ملبوس دکھایا گیا۔ آٹھ گھنٹوں کی شفٹ ڈیوٹی کے دوران یہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف جس میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہوتے ہیں، کچھ بھی کھا پی نہیں سکتے، اپنوں سے ملاقات اور فون پر گفتگو نہیں کر سکتے۔
اپنی شفٹ کے بعد ان کے چہروں پر مخصوص پروٹیکٹیو عینک اور ماسک کے ایسے نشانات پڑ جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر ان بہادر اور جاں فشاں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو سیلوٹ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج معالجے کی غرص سے ان کا آئسولیش وارڈ تک جانا اور آٹھ گھنٹے وہاں ٹھہرنا بھی زندگی اور موت کا سفر ہی تو ہے جبکہ اس ماحول میں کام کرنے کیلئے دورانِ تعلیم ان کو کوئی تیاری بھی نہیں کرائی جاتی۔
میرے دل میں اپنے بہادر سپاہی کیلئے جتنی عزت ہوتی جب وہ اکیلا ہی سب سے آگے والی گاڑی میں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ گاڑی کسی وقت بھی بارودی سرنگ سے ٹکرا سکتی ہے بڑے اطمینان سے سفر کی تیاری کرتا اور واپسی تک بالکل مطمئن رہتا، اتنی ہی عزت آج میں اپنی قوم کی ان بہادر ماو¿ں، بہنوں، بیٹے اور بیٹیوں کی کرتا ہوں جو اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ان مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔
آئیں ہم سب ملکر اپنے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو انسانیت کی خدمت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی شہادت کو قبول فرمائے جنہوں نے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران انسانیت اور وطن سے محبت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، ریٹائرڈ
سات مئی 2020
کراچی

#Covid19# , #CoronaHitsPakistan# , #DoctorsParamedics# , #Martyrs# , #Army# , #ArmyJawans#

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں