147

آخری چٹان سے ارطغرل غازی تک کا سفر

تحریر: عمران منصب خان
وطن عزیز میں اردو زبان میں ڈب کیے گئے ترکی کے ڈرامے ارطعرل غازی کی ہر طرف دھوم ہے۔ڈرامے کی شاندار پزیرائی کے بارے میں مشہور جملہ ،، وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کر لیا بالکل پورا اترتا ہے۔ چہار سو زبان زد عام ڈرامے کے چرچے اور سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ میں رہنے والے ڈرامے ارطغرل غازی نے واقعی کمال کر دکھایا۔
نوجوان نسل خصوصاََ بچوں کی ڈرامہ دیکھنے میں غیر معمولی دلچسپی میرے لیے کسی حیرت سے کم نہیں۔کیونکہ ڈرامہ تاریخی واقعات کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ نوجوان اپنے اسلاف کو پسند کرتی ہے اور دوسری بات یہ کہ ملک میں اب بھی اگر معیاری ڈرامے تخلیق ہوں تو دیکھنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔
اسلامی تاریخ پر مبنی خصوصاََ پاکستان ٹیلی ویڑن کی سکرین سے نشر ہونے والے ارطغرل غازی سے پہلے 80 کی دہائی میں آج سے لگ بھگ 35 ،36 سال پہلے آخری چٹان اور شاہین جیسے معرکة الآرا ڈرامے نشر کیے جا چکے ہیں جو آج بھی کئی لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہیں۔
” آخری چٹان” میں لیجنڈری اداکارسلیم ناصر مرحوم نے جلال الدین خوارزم شاہ اور سلطان احمدنے چنگیز خان کے کردار اس خوبصورتی سے نبھائے کہ ان کے لہجے کی گرج آج بھی بھلائے نہیں بھولتی، جب وہ بلند آواز میں کہتے”یلغار ہو”،توسننے والوں کے جسم میں سنسنی سی دوڑ جاتی۔ آخری چٹان کی ریکارڈ کامیابی کے بعد شاہین ڈرامہ بنایا گیاجس میں اندلس کے زوال کی کہانی بیان کی گئی۔
اسماعیل شاہ مرحوم نے بدر بن مغیرہ کا کردارخوب نبھایااورراشدمحمود نے سازشی ابو داو¿د کا۔۔۔اتنے عرصے بعد بھی ان کرداروں کے چہرے کے تاثرات اور مکالمے کی ادائیگی پر ناقابل یقین حد تک حقیقت کا گماں ہوتا ہے۔ ان پرانے کاسٹیوم ڈراموں نے جہاں دیکھنے والوں کواسلامی تاریخ سے روشناس کرایا، وہاں ایک خاص مسلم تہذیب کی عکاسی بھی کی، لوگ بہت سی چیزوں سے نادانستہ طور پر جڑ گئے۔
”فی امان اللہ”جب پہلی بار آخری چٹان میں سنا تو وہ جلد ہی بکثرت عام استعمال ہونے لگا اور پھر ہم دوستوں میں سے جب بھی کوئی رخصت ہونے لگتا تو فی امان اللہ کہنا نہ بھولتا۔مجھے یاد ہے کہ ہمارے محلے میں بچے سر شام گلیوں میں درختوں سے ٹہنیاں توڑ کر تلوار بنا لیتے اور پھرایک فرضی جنگ ہوتی جس کے اختتام پر ہر کوئی فخریہ انداز میں ڈراموں کے ڈائیلاگ سناتا اور پھر تالیوں کی صورت میں سب سے داد وصول کرتا۔
ان لازوال ڈراموں نے عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات کچھ اس طرح مرتب کیے کہ اکثر لوگوں نے اپنے بچوں کے نام حسن بن طلال،یوسف بن تاشفین وغیرہ کی طرز پر رکھنا شروع کر دئیے۔ ان ڈراموں نے ہمیں اپنے اسلاف کے بارے میں بہت کچھ بتایا، سکھایا اور سمجھایا۔ ایک طویل عرصے بعد وہی تاثر، خوشی اور لطف مجھے مشہور ”ارطغرل غازی” دیکھ کر بھی محسوس ہوئی ۔
بلا شبہ اس بہترین تاریخی ڈرامے کی ہدایتکاری ، دل موہ لینے والی پس پردہ موسیقی اور مکالمے سب ہی نہایت شاندار اور داد کے مستحق ہیںلیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ترکی، ارطغرل کی صورت میں جو پراڈکٹ آج مارکیٹ میں فروخت کر رہا ہے وہ تو ہم تین دہائیوں قبل بنا چکے تھے پھر کیوں کسی کی توجہ ان ڈراموں کی مارکیٹنگ کی طرف نہیں گئی ۔
آخری چٹان اور شاہین جیسے ریکارڈ کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والے ڈراموں سے متعلق کیوں بے اعتنائی برتی گئی۔اگر ایسا جان بوجھ کر کیا گیا جو یقینا مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے تو ایسا کرنے والے ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں کیا گیا ۔میرا سوال ہے اور تشویش بھی ہے کہ ملک کو ارطغرل غازی جیسی پراڈکٹ 35 سال قبل بنا کر دینے والوں کی خدمات کا اعتراف کیوں نہیں کیا گیا۔
پاکستان ٹیلی ویڑن سے منسلک کہنہ مشق ہدایتکاروں، سٹاف اور سب سے بڑھ کر اداکاری کے میدان میں لیجینڈ کا درجہ رکھنے والوں کی قدر کیوں نہیں کی گئی۔ ترکی نے ارطغرل غازی ہم سے 35 سال بعد بنایا اور اس کی کامیابی سے برانڈنگ کر کے لاکھوں ڈالر کما رہا ہے۔
اس طرح اداکاروں اور ڈرامہ ٹیم کو بھاری معاوضے ادا کرنے کی صورت میں فن کی خدمت اپنی جگہ اور نئی نسل کو اسلامی تاریخ سے روشناس کرانے کا مقصد بھی پورا ہورہا ہے ۔میں ارطغرل غازی کی مزید کامیابی کیلئے دعا گو ہوں لیکن کیا میرے اپنے ملک میں بننے والے آخری چٹان اور شاہین جیسے ڈرامے تخلیق کرنے والی جینیس ٹیم کیا ایسے ہی کسی کریڈٹ کی حقدار نہیں تھی؟۔
ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو آخر کس کی نظر کھا گئی؟ کیااسے زنگ آلود کرنے اور ارادی طور پر اسے تباہی سے دوچار کرنے والوں کا بھی کوئی محاسبہ کرسکے گا؟۔اگر نیب کسی چینل کے مالک سے 34سال پرانے کیسز میں الزام کی بنیاد پر گرفتاری ڈال کر تفتیش کر سکتا ہے تو جن عناصر کے ہاتھوں پاکستان ٹیلی ویڑن کی ڈرامہ انڈسٹری تباہی کا شکار ہوئی ،کیا ان کا جرم کسی سے کم ہے ؟۔
سب سے بڑے دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ڈرامہ انڈسٹری کو عروج پر پہنچانے والے نامور اداکاروں کی اکثریت عمر کے آخری حصہ میں کسمپرسی کا شکار ہو جاتی ہے جن کے لیے کوئی خاطر خواہ فنڈ یا سکیم نہیں بنائی جا سکی ۔ سوال یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں سے ڈرامہ انڈسٹری اور اس سے جڑی معاشی ترقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والوں کو بھی کوئی کٹہرے میں لایا جائے گا یا سب ہمیشہ کی طرح قالین کے نیچے دبا رہے گا ؟۔

#ErtugrulGhazi# , #Turkey# , #PTV# , #PakistanTelevisionCorporation# , #ارطغرل# #NaseemHijazi#

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں