565

لمیٹڈ ایڈیشن جنریشن

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، ریٹائرڈ

زندگی کی دوڑ دھوپ میں ہم اپنا خوبصورت ماضی تقریباً بھول ہی چکے ہیں۔ فکرِ معاش نے اتنا مصروف کر دیا کہ سگے بہن بھائی بھی ایک شہر میں رہتے ہوئے کئی کئی دن ایک دوسرے سے مل نہیں پاتے۔ جس خوبصورت اور پیار بھرے بچپن کا لطف ہم اٹھا چکے ہیں ہماری نئی نسل اس سے ناآشنا ہے۔ اب نئی نسل کو اس بارے میں کیسے بتائیں کہ ہمارا معاشرتی نظام تو زبوں حالی کا شکار ہو کر کب کا ختم ہو چکا ہے۔ ہاں کچھ دھندلی سی یادیں اب بھی باقی ہیں۔
ماضی کی یادوں پہ چڑھی گرد کو ہٹاوں تو وہ وقت یاد آتا ہے جب گھر چھوٹے مگر دل بڑے ہوتے تھے۔ کسی کے گھر جانے کیلئے میزبان سے وقت نہیں لینا پڑتا تھا۔ گھنٹی بجتی، دروازہ کھلتا تو کوئی اپنا ہی پیارا، چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے میزبان کے خوشگوار تاثرات کا لطف اٹھانے کیلئے سامنے موجود ہوتا۔ میزبان کی خوشی اس سے بڑھ کر ہوتی۔
اپنے پیاروں سے جڑا ہم سب کا وہ ماضی خوشگوار اور حسین یادوں سے بھرا پڑا ہے کہ محبتیں سچی، پیار خالص اور رشتے بےلوث ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب کبھی کوئی اپنا پیارا میزبان کے گھر سے واپسی کیلئے رختِ سفر باندھتا تو سب کی آنکھیں پرنم ہوتیں۔ خاص طور پر گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران دوسرے شہر سے آئے اپنے رشتہ دار جب واپسی کی بات کرتے تو سب گھر والوں کے چہروں پر اک اداسی چھا جاتی اور پھر اگلی لمبی ملاقات کیلئے گرمیوں کی چھٹیوں کا انتظار جس بےصبری سے ہوتا اسکو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
گاو¿ں یا شہر کا آبائی گھر بزرگوں کی موجودگی کی وجہ سے خاندانی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا۔ ددھیالی یا ننھیالی پیاروں کے پاس جانا ہوتا تو بذریعہ خط یا تار صرف اتنا بتا دیا جاتا کہ اس بار چھٹیاں ہم وہاں گزاریں گے۔ لمبے سفر عموماً بزریعہ ٹرین ہی طے ہوتے۔ ریلوے اسٹیشنز کی رونقیں ایسی ہوتیں کہ اب ویران ریلوے اسٹیشنز کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ خیبر سے کراچی تک کے سفر میں پشاور، راولپنڈی، وزیرآباد، لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال، خانیوال، ملتان، سکھر، شکارپور، سبی، جیکب آباد، کوئٹہ، روہڑی، حیدرآباد اور کراچی کے اسٹیشنز اپنی رونق اور آب و تاب کی وجہ سے قابل ذکر ہیں۔
مختلف چھابڑی اور ریڑھی والے اپنے اپنے مخصوص انداز میں آوازیں لگا کر مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے۔ ہر ریلوے اسٹیشن کا اپنا ماحول ہوتا جو اپنے اپنے ضلعی اور صوبائی ثقافت کا عکاس ہوتے۔ ہر شہر کی اپنی خاص سوغاتیں وہاں کے ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتیں۔
لاہور کے چکڑ چھولے، حلوہ پوڑی اور پائے، ملتان کا سوہن حلوہ، شکارپور کا اچار، حیدرآباد کی بریانی اور کراچی کی نہاری اور شیرمال ہم سب کو ابھی تک یاد ہیں۔ ان اسٹیشنز پہ لال کرتوں میں ملبوس قلی حضرات ٹرین آنے کے منتظر ہوتے جو نہایت مناسب اجرت پہ مسافروں کا سامان پلیٹ فارم سے تانگہ، رکشہ اور ٹیکسی اسٹینڈ پر پہنچا دیتے۔ تانگہ اور رکشہ کے استعمال میں کوئی شرم نہ محسوس ہوتی۔
ننھیال اور ددھیال میں جان سے پیارے ماموں، چچا، تایا اور صدقے واری ہونے والی پھوپھیاں اور خالائیں اپنے پیاروں کی راہ تکتے۔ نانی اور دادی اماں سے بچے پان یا چھالیہ کی فرمائش کرتے اور ان کے انکار پہ صرف ایک جادو کی جپّھی ہی ان کو منانے کےلئے کافی ہوتی۔ پھر وہ اپنا پان دان سامنے رکھ کر پان کی چھوٹی سی گلوری بنا کر دیتیں۔
جب ہم کچھ بڑے ہوئے تو ان کو پان کا تحفہ ہی پیش کرتے جس کی بدولت ہمیں ڈھیروں دعائیں ملتیں۔ یقیناً وہی دعائیں آج بھی کام آ رہی ہیں۔ سب سے چھوٹے ماموں، چچا، خالہ اور پھوپھی سے عزت اور احترام کے ساتھ ساتھ دوستی کا رشتہ بھی قائم ہوتا۔ ہماری غلطیوں پر امی ابو کی ڈانٹ اور مار سے بچانے کیلئے یہ ہر اول دستے کا کام کرتے۔
مشترکہ خاندانی نظام کے تحت سب اکھٹے ہی رہتے۔ ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے پر سب گھر والوں کی دسترخوان پر موجودگی ایک غیر اعلانیہ حکم کے تحت لازمی ہوتی، بزرگ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اکھٹے بیٹھ کے کھانے سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ رزق میں اپنا فضل اور برکت شامل فرما دیتا ہے۔ گاوں میں مٹی کے چولہے پر گھر کے تازہ مکھن اور خالص دیسی گھی کے بنے کھانوں کا اپنا ہی مزہ ہوتا کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔ تازہ سبزی اور دال بھی شوق سے کھائی جاتی کہ اس میں خالص پیار کا ٹرکا لگا ہوتا۔ جبکہ شہر میں پہلے مٹی کے تیل اور بعد میں گیس کے چولہوں نے خواتین کی سہولت میں اضافہ کر دیا۔ البتہ گھر میں جو کچھ بھی پکتا سب وہی کھاتے، بازار کے کھانوں پر گھر کے پکے ہوئے صاف ستھرے کھانوں کو ہی ترجیح دی جاتی۔
سرِ شام گھر کے صحن میں پانی کے چھڑکاو کے بعد چارپائیاں لگ جایا کرتیں۔ تاش، لڈو، کیرم بورڈ، نام/ چیز/ جگہ اور اسکریبل کی بازیاں لگتیں۔ صحن سے متصل برآمدے میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی رکھا ہوتا۔ پاکستان ٹیلی ویڑن کی نشریات عصر کے وقت پروگرام بصیرت سے شروع ہو کر رات فرمانِ الٰہی پر اختتام پذیر ہوتی۔ بچوں کیلئے کارٹون، الف لیلیٰ، سکس ملین ڈالر مین، نائٹ رائیڈر، چپس اور بہت سے دوسرے پروگرامز ٹرانسمیشن کا حصہ ہوتے۔
آٹھ بجے اردو کے لازوال ڈرامے نشر کیے جاتے جن میں وارث، ان کہی، تنہائیاں، اندھرا اجالا، ترکی کے مشہور ڈرامہ ارطغرل غازی کی طرز کے آخری چٹان اور شاہین قابل ذکر ہیں ان ڈراموں کو دیکھنے کیلئے محلے کی وہ خواتین بھی موجود ہوتیں جن کے گھر ٹی وی نہ ہوتا۔ مزاحیہ پروگرامز میں ففٹی ففٹی کا کوئی ثانی نہ تھا۔ رات نو بجے خبرنامہ نشر ہوتا جس کو بڑے بہت غور سے سنتے جبکہ بچے شدید بور ہوتے۔ ٹی وی انٹینا ٹھیک کرنا بھی ہمارے ماضی کی یادوں کا ایک ایسا حصہ ہے جسے ہم کبھی نہ بھلا پائیں گے۔
اس زمانے میں گھر میں ٹیلی فون کا کنکشن موجود ہونا کسی نعمت سے کم نہ ہوتا، اور یہ نعمت محلے کے ایک آدھ گھر میں ہی پائی جاتی اور جس گھر میں فون کا کنکشن ہوتا وہی محلے کا پی سی او ہوتا۔ محلے دار فون سنے اور کرنے بلا جھجک ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے۔ ہمیں چھوٹا ہونے کے ناطے فون سنے والوں کو ان کے گھر جا کر بلانا پڑتا۔
مختلف تہواروں اور قومی دن کے موقع پر محلوں میں خوب گہما گہمی ہوتی۔ جشنِ آزادی اور عید میلادالنبی کے موقع پر پورے محلے کو دلہن کیطرح سجایا جاتا۔ شبِ برات، عید میلادالنبی اور یوم عاشور کے موقع پر سبیلیں لگا کرتیں۔ اس دور میں سب مسلمان واقعی آپس میں بھائی بھائی ہوتے۔
بچپن میں ہم محلے کی گلیوں میں ہی کرکٹ کھیلتے۔ اور مغرب کی اذان پہ کھیل ختم کر کے محلے کے تمام بچے مسجد کا رخ کرتے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں رات کو محلے میں موجود پارک میں مصنوعی روشنی میں ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد ہوتے جس میں آس پاس کے محلوں کی ٹیمیں بھی شرکت کرتیں۔
رمضان المبارک میں ابو جی اور بڑے بھائیوں کے ہمراہ نماز تراویح کیلئے مسجد جاتے جو نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی۔ بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم کیلئے محلے کی بزرگ خواتین کے گھر بھیجا جاتا۔ عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز کیلئے آس پاس کے محلے دار ایک ساتھ عیدگاہ کا رخ کرتے۔ بقر عید پر قربانی کے وقت محلے کے نوجوان ایک دوسرے کی مدد کرتے۔محلے کی لڑکیاں چاند رات پر ایک دوسرے کو مہندی لگایا کرتیں۔ ایک دوسرے کیلئے گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے۔ جب کوئی خاص پکوان تیار ہوتا تو محلے میں بھی بانٹا جاتا۔
وہ خط و کتابت کا دور تھا۔ رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے سے خط کے ذریعے رابطے بحال رکھتے۔ عید کے موقع پر عید کارڈ لازمی موصول ہوتے اور ان کا بے چینی سے انتظار بھی ہوتا۔ پھر وقت نے انگڑائی لی اور خط و کتابت کا سلسلہ موقوف ٹھہرا اور ہمارے سنہرے ماضی کو کمپیوٹر کھا گیا، خط و کتابت کی جگہ ای میل نے لے لی۔ پھر موبائل فون کے آنے سے یہ سلسلہ بھی جاتا رہا۔ فیس بک اور واٹس ایپ نے کہنے کو تو لوگوں کو ایک دوسرے کے نزدیک کر دیا ہے مگر دراصل ہم ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔
ایک گھر میں بسنے والے جو پہلے ایک کمرے میں بیٹھ کر آپس میں بات چیت کرتے تھے اب اپنے ساتھ بسنے والوں کو نظر انداز کر کے اپنے اپنے کمرے میں بیٹھ کر آن لائن دوستوں کے ساتھ روابط بڑھاتے ہیں۔ گھر کے کھانوں کی جگہ پیزا اور برگر نے لے لی۔ دودھ کی جگہ انرجی ڈرنکس آگئے۔ کھیل کے میدان سمٹ کر موبائل فون میں سما گئے۔ گھروں کے صحن کی جکہ لان نے لے لی۔ بڑے گیٹ اور اونچی دیواروں کے پیچھے بسنے والے ایک دوسرے سے ناواقف ہو گئے۔ مشترکہ خاندانی نظام ختم ہو چلا کہ ہر شخص پیسے ہی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
اب تو بھائی کو بھائی کے گھر آنے کیلئے اجازت طلب کرنا پڑتی ہے۔ جبکہ میزبان اپنا بجٹ دیکھنا شروع کر دیتا ہے کہ کھانے میں تین چار پکوان تو ہوں۔ آنے والا ایئر کنڈیشنڈ کمرے کی توقع رکھتا ہے۔ پس اس مصنوعی اور کھوکھلی محبت نے ہمارا معاشرتی نظام تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
کاش کہ بچپن کا وہ سنہرا دور پھر سے لوٹ آئے۔ کیا ہماری نئی نسل یہ سب دوبارہ کر پائی گی۔ کیا یہ سب پھر سے ممکن ہو سکے گا یا پھر ہم لمیٹڈ ایڈیشن جنریشن ہیں؟۔
دس مئی ۲۰۲۰
کراچی

#ChildhoodMemories# , #LimitedEditionGeneration# , #JointFamilySystem# , #OldPTV# , #Relatives#

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں