140

گوگل کا بھی منٹو کو خراج تحسین

عالمی شہرت یافتہ اردو ادب کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو گوگل کا خراج تحسین ،،منٹو کے 108ویں یوم پیدائش پر گوگل ڈوڈل ان کے نام کر دیا

منٹو کا اپنی قبر کے لیے لکھا ہوا کتبہ

تحریر ؛ عمران منصب خان
اردو افسانے کا ذکر اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں سعادت حسن منٹو کو شامل نہ کیا جائے۔گوگل نے سعادت حسن منٹو کے108ویں یوم پیدائش پر اپنا ڈوڈل ان کے نام کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔
سعادت حسن منٹو کے افسانے نہ صرف اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں بلکہ ان کی سبھی تحریریں بشمول افسانے، مضامین اور خاکے بےمثال حیثیت کے حامل ہیں۔منٹو کے شہرہ آفاق افسانوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور کالی شلوار جیسی بہت سی تخلیقات شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے، خاکے اور ڈرامے بھی شائع ہو چکے ہیں۔
سعادت حسن منٹو اپنے افسانوں کے زریعے ایسا سچ بیان کرتے ہیں جو آسانی سے ہضم نہیں ہوتا۔ درحقیقت منٹو نےاپنے افسانوں کے زریعے بغیر کسی ملمع کاری کے حالات کے ستائے ہوئے طبقے کے مسائل کو بیان کیا ہے۔سعادت حسن منٹو کا تکیہ کلام تھاتم سب فراڈ ہو۔ وہ آج بھی بہت سے لوگوں کی ناپسندیدگی کے باوجود بہت سوں کے پسندیدہ افسانہ نگار ہیں، لیکن ان حضرات کے بارے میں کیا کہا جائے جو ہمیشہ منٹو کے پڑھنے والوں کو یہی تاکید کرتے رہتے ہیں کہ “بچوں کو منٹو کی کہانیوں سے دور رکھو”، مگر موقع ملتے ہی وہ خود ان کے افسانے چھپ چھپ کر پڑھتے رہتے ہیں۔
شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں منٹو نے کہا تھا کہ معاشرے کے تاریک پہلووں سے پردہ اٹھاتی میری تلخ کہانیوں میں اگر آپ کو جنسی لذت نظر آتی ہے تو یقیناً آپ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔منٹو نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ “مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں، عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب۔ کبھی میرے لیے روزی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور کبھی کھولے جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی سوچتا تھا اور اب بھی سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔ اس ملک میں جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کہا جاتا ہے، میرا مقام کیا ہے، میرا اپنا مصرف کیا ہے؟”۔
اکثر لوگ ان کے افسانوں کو صرف فحاشی کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر وہ درحقیقت انسان کے سماجی، نفسیاتی اور جنسیاتی مسائل کے بارے میں ہمیں بتانا چاہتے ہیں جو انسان کی پیدائش سے لے کر مرتے تک اس کے ساتھ لپٹے رہتے ہیں۔
یہ سب مسائل توجہ طلب ہونے کے ساتھ ساتھ حل طلب بھی ہیں، مگر ہمارا رویہ ان تمام مسائل کے حوالے سے منفی رہا ہے۔منٹو وہ بے رحم افسانہ نگار تھے، جنہیں لوگوں کے دکھوں اور تکالیف کو حسین کر کے پیش کرنے کا فن نہیں آتا تھا، بلکہ وہ اس کرب کو محسوس کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس ملک کی اشرافیہ بھی ان کے دکھوں کو محسوس کرے، مگر انہیں نفرت کے سوا کچھ نہیں ملا۔
سعادت حسن منٹو کو اس دنیا سے گئے 65 برس بیت گئے۔ منٹو کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں ان کے ڈرامے اسٹیج ہو رہے ہیں۔ انیس ناگی نے منٹو پر ڈاکومنٹری فلم بنائی۔ پاکستان میں سرمد کھوسٹ اور حال ہی میں پڑوسی ملک بھارت میں نندیتا داس نے منٹو پر فلم بنائی، منٹو پر کتابوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا ہے ۔
ان کا ادب پھیل رہا ہے اور ان کی کہانیوں اور افسانوں کے دوسری زبانوں میں تراجم بھی ہورہے ہیں۔42 برس کی مختصر زندگی گزارنے والے سعادت حسن منٹو کو بعد از مرگ 14 اگست 2012 کو نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔


مصنف کا تعارف: عمران منصب خان۔ سینئر صحافی بلکہ جدی پشتی صحافی ہیں۔ اٹک میں واقع پریس کلب ان کے والد منصب حسین خان (مرحوم) کے نام سے منسوب ہے۔اس وقت عمران منصب خان، پی ٹی وی اسلام آباد سے منسلک ہیں۔ان کے بڑے بھائی محسن رضا خان ملک کے جانے مانے صحافی ہیں جبکہ ایک اور بڑے بھائی ندیم رضا خان اٹک پریس کلب کے چیئرمین ہیں۔
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں