74

طوطا چشم

طوطا چشم

تحریر: ثنا خان

آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو ایک ایسے گھر میں پایا جہاں غربت اور مایوسی پیر پھیلائے بیٹھی تھی۔گھر میں ہم چھ بہنوں کا ایک ہی بھائی تھا۔۔ اور ایسے میں آئے روز ماں باپ کے جھگڑے تھے، کم ہی ایسا اچھا دن ہوتا جب گھر میں ہنگامہ نہ ہوتا ہو۔
میں یہ سب کچھ دیکھ کے بڑی ہوئی تھی۔ ابو کی پنسار کی چھوٹی سی دکان تھی جس سے گھر کا گزارا مشکل ہی چلتا تھا۔امی کو امیر نظر آنے کا شوق تھا۔آئے دن فرمائشوں کی لمبی لسٹ ہوتی جس پر اکثر جھگڑا ہوتا۔ابو کی آمدنی سے مشکل سے گھر کا خرچہ اور ہمارے اسکول کی فیس پوری ہوتی –
پیسے کی کمی کی وجہ سے ابو بھی چڑچڑے رہتے -جیسے تیسے دن گزر رہے تھے۔بھائی نے انٹر کا امتحان پاس کر لیا اب اس کو یونیورسٹی میں داخل کروانا تھا جس کے لیے فیس کی بھاری رقم درکار تھی کچھ رقم تو تھی مگر اب بھی کافی ساری رقم کی ضرورت تھی۔
کسی نہ کسی طرح مانگ تانگ کے رقم کا بندوبست ہوا اور بھائی کا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہو گیالیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی اب ہر چار مہینے بعد ایک بھاری رقم سمسٹر فیس کی مد میں جاتی جس کے لیے ان چار مہینوں میں رقم جمع کرنے کے جتن کیے جاتے۔جس کی وجہ سے گھر کے حالات مزید خراب ہو گئے تھے۔
اس سے پہلے میں پرائیویٹ اسکول میں تھی،ہاتھ تنگ ہونے پہ مجھے گورنمنٹ اسکول میں داخل کروا دیا گیا اور باقی بہن بھائیوں کے بھی اسی طرح اسکول تبدیل کروا دئیے گئے۔ دن مہینوں میں،مہینے سال میں تبدیل ہوتے گئے اور وہ وقت بھی آیا جب بڑے بھائی کی ماسٹرزڈگری مکمل ہو گئی۔
سب بہت خوش تھے کہ اب ہمارے دن پھر جائیں گے۔ اب بھائی گھر کے اخراجات سنبھال لے گا، ہم بھی اچھے دن دیکھیں گے لیکن بھائی کے دل میں کچھ اور ہی تھا وہ اور آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ بڑے شہر جا کے بڑا آدمی بننا چاہتا تھا جس کے لیے اس نے امی سے ضدشروع کر دی۔
ماں تھی مان بھی گئی، ایک سیٹ جو میری شادی کے لیے رکھا تھا اس کو گروی رکھوا کر کچھ رقم کا بندوبست کیا اور بھائی کو بڑے شہر بھجوا دیا، ابو نے بہت منع کیا لیکن امی نہ مانیں۔بھائی نے وہاں نوکری کی تلاش شروع کی اس میں کئی مہینے لگ گئے۔
آخر کار بھائی کی نوکری لگ گئی لیکن تنخواہ اتنی کہ صرف اپنا خرچہ اٹھا سکے پھر آہستہ آہستہ بھائی کی نوکری میں بہتری آئی اور تنخواہ بہتر ہونے لگی اس اثنا میں میرا ایک رشتہ آیا رشتہ کیا تھا دو بچوں کا باپ اور اسکی بڑی بیٹی لگ بھگ میری عمر کی ہی تھی۔ بیوی مر گئی تھی اور بچوں کو ماں کی ضرورت تھی۔
امی نے موقع غنیمت جانا اور ہاں کر دی۔عورت کے بڑے ارمان ہوتے ہیں وہ سب کے سب مٹی میں مل گئے۔ جب اس گھر میں گئی، گھر تو نہیں جنجال پورہ لگتا تھا صبح سے کام شروع ہوتا تو رات گئے بستر کی شکل دیکھنے کو ملتی ، بدن تھک کر چور ہوتا تو لیٹتے ہی نیند آ جاتی۔
دن گزرتے رہے رب نے خوشی بھی دکھا دی اور میری گود ہری کر دی۔ اب میں گھر بھی سنبھالتی اور بچے کو بھی۔ مسکراتی اولاد کو دیکھ کر اب ہر چیز اچھی لگنے لگی ، مسکرانے کو جی چاہتا، بچے کے ساتھ کھیلتی تو ساری تھکن اتر جاتی۔
دن گزرتے رہے ایک دن امی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ بھائی اب ولایت جانا چاہتا ہے امی بہت اداس تھیں دوسرے شہر سے تو ہر مہینے دو مہینے بعد بھائی چکر لگا لیتا تھا پردیس جا کر تو شکل بھی دیکھنے کو نہ ملتی لیکن کیا ہو سکتا تھا۔ بھائی جو بھی ٹھان لیتے تو کر کے ہی چھوڑتے تھے۔
بہت مشکل سے پیسوں کا بندوبست ہوا اور بھائی پردیس چلا گیا۔وہاں جا کے شروع کے کچھ مہینوں تو بھائی نے امی ابو سے رابطہ بھی رکھا پھر آہستہ آہستہ وہ رابطہ بھی ختم ہوتا گیا۔تقریباً ایک سال بعد بھائی کا ایک دوست آیا تو معلوم ہواکہ بھائی نے وہاں ایک گوری سے شادی کر لی ہے اور وہ وہاں سیٹل ہو گیا ہے، کبھی نہ آنے کے لیے۔
یہ سننا تھا کہ امی ابو کے تخیل میں وہ دن چلنے لگے جب بھائی کی فیس کے لیے لوگوں کی منتیں کر کے پیسے جمع کرتے تھے، خود پھٹے پرانے کپڑے پہنتے لیکن اس کی فیس پوری کرتے تھے۔ فیس پوری کرنے کے چکر میں بھوک بھی کاٹی ، اپنا پیٹ کاٹ کے بھائی کو اچھا کھلایا پلایاکہ گھر کا مستقبل اسی میں دیکھا کرتے۔
ابو خود پیدل آتے جاتے بس یا ٹیکسی کی عیاشی نہ کرتے کہ کہیں بچے کی فیس کی رقم خرچ نہ ہو جائے۔ساری یادیں آنسوو¿ں کے ساتھ بہہ رہی تھیں اور امی بت بنی کھڑی تھیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں