84

پھٹا کمبل

پھٹاکمبل

آج پھر دادی اس پھٹے ہوئے کمبل میں ٹھٹھر رہی تھیں۔ہونٹوں سے صاف معلوم ہورہا تھا کہ ان کو ٹھنڈلگ رہی ہے،جو کانپ رہے تھے لیکن ان پہ شکوہ نہیں تھا۔دادی آپ کو سردی لگ رہی ہے؟۔ ایشان نے ان کے ہونٹ کانپتے دیکھ کر کہا۔ نہیں، انہوں نے ایک خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجا کر ایشان کے گال پر پیار کیا اور خود سے لپٹا لیا۔
کمال سکون تھا ان بازوو¿ں میں کہ ایشان کو نیند آگئی۔ آنکھ اس وقت کھلی جب ماں غصے میں دادی کو باتیں سنا رہی تھیں۔آپ کو میں نے منع بھی کیا ہے اتنی سردی میں اس کو یہاں مت بلایا کریں ٹھنڈ لگ جائے گی۔بیٹا میں نہیں بلاتی یہ خود آجاتا ہے،دادی نے کہا۔ بس بس اب باتیں مت بنائیں یہ کہہ کے وہ ایشان کو ساتھ لے کر وہاں سے چلی گئی۔
یہ روز کا معمول تھا ایشان دادی کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کے ان کے پاس جاتا اور ماں دادی کو اس بات پہ خوب باتیں سناتی۔ دادی بھی ایشان کے بغیر نہیں رہ سکتی تھیں بلکہ اسے دیکھ دیکھ کے جیتی تھی۔
یہ ایک پرانا سامکان تھا جس کے تین کمرے تھے۔ دادی سب سے باہر والے کمرے میں رہتی تھیں جو باقی کمروں کی نسبت کم روشن اور چھوٹا تھا۔وہ سارا دن قرآن پاک پڑھتی رہتیں۔بیٹاگھر پہ ہوتا تو انہیں اچھا کھانے کوبھی مل جاتا ورنہ بچا کچھا ہی ملتا۔
زاہد آڑھت کا کام کرتا تھا۔صبح کا گیا جب رات کو تھکا ہارا واپس آتا تو کھانا کھاتے ہی سو جاتا۔صبح جاتے ہوئے اگر تھوڑی دیر ماں کے پاس بیٹھتا تو وہ بھی اسکی بیوی پر گراں گزرتا۔زاہد کی پروین سے پسند کی شادی تھی۔ایک تقریب میں اسے دیکھ کر دل و جان سے فدا ہو گیا ماں نے بیٹے کی خوشی دیکھی تو فوراً رشتہ لینے چل پڑی۔
لڑکی والوں نے انکار کر دیا تو مایوس واپس آ گئی۔زاہد نے جب یہ سنا تو بہت دکھی ہوا اور ہر وقت اداس رہنے لگا۔ ماں سے بیٹے کی حالت نہیں دیکھی جاتی تھی۔اس نے ایک دفعہ پھر جانے کا ارادہ کیا۔گھٹنوں میں درد کی شکایت کے باوجود بیچاری ماں انکے گھر کی سیڑھیاں اترتی چڑھتی رہی۔آخر وہ مان گئے۔
زاہد کی خوشی کی انتہا نہ تھی اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اس کو ملنے جا رہی تھی۔تاریخ طے ہوئی اور شادی کا دن بھی آگیا۔ زاہد ماں کا اکلوتا بیٹا تھا بیٹے کو خوش دیکھ کے وہ پھولے نہیں سما رہی تھی پروین واقعی خوبصورت نظر آرہی تھی مانو کہ پری اتر آئی ہو زمین پر۔
زاہد دلہن کے پہلو میں بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ کچھ دن تک مہمانوں کا تانتا بندھا رہا اور نئی دلہن کی آو¿ بھگت ہوتی رہی۔ کچھ دن بعد مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا اور ساتھ ہی دلہن بیگم کے رنگ ڈھنگ بھی نظر آنے لگے۔
اب وہ ہر کام میں اپنی مرضی چلاتی اور چاہتی کہ گھر کا ہر کام اس کی مرضی سے ہو۔زاہد بھی بیوی کی ہاں میں ہاں ملاتا۔ماں کی حیثیت ثانوی ہو گئی تھی۔ماں یہ سب دیکھتی لیکن چپ رہتی، بیٹے کی خوشی جو عزیز تھی۔پروین اب ماں سے بھی بدتمیزی کر جاتی۔
پہلے ایسا کبھی کبھار ہوتا لیکن اب تو معمول بنتا جا رہا تھا۔ زاہد کبھی بولتا تو اسکو بھی چپ کروا دیتی۔ناراض ہوتی تو کئی کئی دن کمرے سے باہر نہ آتی۔ مصلحتا زاہد بھی خاموش رہنے لگا۔پھر ایک دن یہ معلوم ہوا کہ پروین امید سے ہے۔ زاہد کے تو پاو¿ں زمین پہ نہیں ٹک رہے تھے۔ماں کی خوشی بھی دیدنی تھی۔
زاہد اسے بستر سے اترنے نہ دیتا۔ساس بھی سب کچھ بھول کے خوب نخرے اٹھاتی۔آخر ان کے گھر میں ایک ننھا سا کھلونا آگیا۔اللّہ نے زاہد کو اولاد نرینہ سے نوازا۔بیٹے کی پیدائش کے بعد پروین اور اترانے لگی۔کہتے ہیں کے اولاد آنے کے بعد عورت کا دل نرم ہو جاتا ہے لیکن پروین پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔
ایشان جب تھوڑا بڑا ہوا تو پروین کو لگا کہ اب اسکا کمرہ الگ ہونا چاہیے اس لیے دادی کو صحن کے ساتھ والا چھوٹا کمرہ دے دیا گیا۔ کمرے میں سامان کے نام پر ایک چارپائی ایک تپائی ،ایک چھوٹی سی الماری اور ایک پھٹا ہوا کمبل تھا جو دادی سردیوں میں اوڑھا کرتی۔اس کمبل میں جگہ جگہ پیوند تھے اور کئی جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔
ایشان دادی سے بہت پیار کرتا تھا اور دادی بھی اس پر جان چھڑکتی۔اب ہر وقت وہ دادی کے پاس رہتا جو بات پروین کو بہت بری لگتی وہ پکڑ پکڑ کے لاتی وہ پھر دادی کے پاس پہنچ جاتا اور وہ زاہد کی ماں کو باتیں سناتی۔ اس دن بھی ایس ہی ہوا ٹھنڈ زیادہ تھی اور اس کمبل میں سے سردی چھن چھن کے آرہی تھی۔
زاہد کی ماں نے بیٹے کو آوازیں لگائیں لیکن کمرہ دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ پہنچ سکی۔بوڑھی جان شدید سردی نہ برداشت کر سکی اور نمونیا کا شکار ہو گئی۔صبح جب زاہد کمرے میں آیا تو ماں کو بے ہوش پایا اس کو تیز بخار تھا، سانس بھی بہت تیز چل رہی تھی۔
زاہد ماں کو فوراً ڈاکٹر کے لے کر گیا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی نمونیا سے پھیپھڑے بہت زیادہ متاثر ہو چکے تھے۔جیتی جاگتی ماں کی میت لے کہ گھر لوٹا تو بیٹا دادی کو اٹھاتا رہا کہ دادی اٹھیں مجھے کہانی سنائیں۔لیکن دادی تو ساری تکلیفوں سے آزاد ہو کر دور جا چکی تھی۔
زاہد کمرے میں آیا تو خالی کمرہ میں خالی چارپائی کے ساتھ بیٹھ کے کئی گھنٹے روتا رہا۔روتے روتے اس کی نظر جب ماں کے پھٹے ہوئے کمبل پہ پڑی جو ماں اکثر چھپا لیا کرتی تھی تو اس کو ایسا لگا کہ اس کا دل پھٹ جائے گا ، وہ اتنا لاپرواہ تھا کہ وہ یہ نہ دیکھ سکا کہ ماں کے پاس پھٹا ہوا کمبل ہے۔
اس نے ماں کے کمبل کو چوما تو اسمیں سے اب بھی ماں کی خوشبو آرہی تھی۔اس نے پیار سے وہ کمبل لپیٹ کر ساتھ ہی رکھی الماری میں رکھ دیا۔ کچھ عرصے بعد دل کا عارضہ زاہد کی بھی جان لے گیا۔
وقت گزرتا گیا ایشان اب جوان ہو گیا تھا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن گیا تھا۔اب پروین کو اسکی شادی کی فکر تھی۔ ایک دن ایشان اپنی دفتر کی ساتھی کو ساتھ لایا اور بتایا کہ وہ اس کی دوست ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے، ایشان نے ماں کو یہ بھی بتا دیا کہ وہ اس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرے گا۔
اکلوتے بیٹے کی خواہش رد نہیں کر سکتی تھی مان گئی۔ رابعہ بہو بن کے گھر آگئی۔ شروع میں وہ بہت اچھی رہی وقت گزرنے کے ساتھ اسکا رویہ بدلنا شروع ہوگیا۔اب وہ ہر بات پہ پروین سے لڑتی اور ایشان چپ رہتا۔
آخر رابعہ نے پروین کو بھی اسی کمرے میں منتقل کروا دیا جہاں پروین کی ساس رہتی تھی پروین نے بہت مزاحمت کی۔ اس نے بہت کہا کہ ٹھنڈ بہت ہے وہ نہیں سو سکے گی یہاں لیکن اب گھر میں وہی ہوتا تھا جو
رابعہ چاہتی تھی کیونکہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔
رات ہوئی تو بہو نے وہی پھٹا ہواکمبل الماری میں سے نکال کہ پروین کے سامنے ڈال دیا۔پروین پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی، پھٹا ہوا کمبل ایک بار پھر آنسوﺅں سے تر ہو گیا۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں