150

کورس میٹس

کالج لائف مزے سے گزر رہی تھی۔ یہاں نئے دوستوں کے علاوہ بہت ہی قابلِ احترام اساتذہ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ وہ ہمیں ڈاکٹر بنانے پہ تلے ہوئے تھے جب کہ دوست ہمیں کرکٹ گراونڈ کی طرف کھینچتے۔ اور ہم ان دونوں سے بچ بچا کر کالج کی کینٹین میں ہی سکون پاتے۔ اب گھر سے تو ہم ڈاکٹر بننے ہی نکلے تھے، تو کینٹین کے مشہور اور مزیدار بن کباب کھاتے کھاتے چشمِ تصور میں اکثر خود کو سفید کوٹ میں ملبوس ہاتھ میں اسٹیتھو سکوپ پکڑے دیکھ کر دل پشوری کر لیا کرتے۔ اسی چشمِ تصور میں ناجانے کب سفید کوٹ کی جگہ خاکی وردی اور اسٹیتھو سکوپ کی جگہ رائفل ہمارے ہاتھ آ لگی۔
ہوا کچھ یوں کہ ایک موصوف جو سکول کے زمانے سے ہی ہمارے قریبی دوستوں میں شامل رہے، خود تو پاکستان آرمی میں کمیشن کے لیے امتحان دے آئے، بضد تھے کہ ہم بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آرمی سلیکشن اینڈ ریکروٹمنٹ سینٹر، راولپنڈی میں حاضری دے آئیں۔ ہمارے مسلسل انکار پر میڈیکل پڑھنے کے نقصانات اور پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کے فوائد پر دل کھول کر دلائل پیش کرنے لگے مگر ہمارے کانوں سے ان کا صرف ایک ہی جملہ ٹکرایا کہ آجکل کی لڑکیوں کو فوجی بہت بھاتے ہیں۔ “بس کر پگلے اب رلائے گا کیا؟” کہہ کر ہم نے اس کو چپ کرایا اور فوراً پاکستان آرمی کے ابتدائی مرحلے کے امتحان میں قسمت آزمائی کی ہامی بھر لی۔
ابتدائی مرحلہ باآسانی عبور ہوا تو کچھ ہی دنوں میں گھر کے پتے پر ایک نامہ موصول ہوا جو ہماری تفصیلی جانچ پڑتال کےلئے آئی ایس ایس بی، کوہاٹ میں چار روزہ حاضری کا اِذن تھا۔ یہ مرحلہ بھی کامیابی سے طے ہوا۔ اگلا سفر جونیئر کیڈٹس اکیڈمی، منگلا کینٹ تک کا تھا۔ اس نئے سفر نے ہمیں دوستوں کے علاوہ ایک نئے رشتے سے روشناس کرایا۔ میرے ساتھ کامیاب ہونے والے سارے خوش نصیب میرے “کورس میٹس” کہلائے۔
کہنے کو تو یہ سب کورس میٹس بھی دوست ہی تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نیا رشتہ دوست پلس ہو گیا۔ جونئیر کیڈٹس اکیڈمی کے پہلے دن سینیئرز کے ہاتھوں خوب رگڑا کھانے کے بعد جب کمرے میں پہنچے تو دو عدد روم میٹس نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ایک تو کورس میٹ اوپر سے روم میٹ کیا ہی زبردست کمبینیشن تھا۔ پورا دن ڈرل سٹاف اور سینیئر کیڈٹس سے رگڑا کھانے کے بعد ایک دوسرے سے باتیں کر کے پورے دن کی تھکان ختم ہو جایا کرتی۔ کبھی کبھار سینیئرز بیچارے ایک ہی کیڈٹ کو پکڑ کر رگڑا لگا دیا کرتے ایسے میں دس منٹ بھی گھنٹوں کے برابر لگتے مگر جب ایک بھی کورس میٹ اس رگڑے میں شامل ہو جاتا تو وہ رگڑا، خوشی ٹائم میں تبدیل ہوجاتا اور وقت گزرنے کا پتا بھی نہ چلتا۔
منگلا میں دو سالہ تربیت کے بعد ہماری اگلی منزل پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے)، کاکول تھی۔ منگلا میں کورس میٹس کی تعداد ڈھائی سو کے لگ بھگ تھی اور کاکول میں اتنے ہی کورس میٹس اور بھی شامل ہو گئے۔ انھوں نے کالج لائف پوری کر کے بارہویں جماعت کے بعد پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی جبکہ ہم دسویں جماعت کی بنیاد پر ہی فوج میں شامل ہوگئے تھے۔ البتہ گریجویشن ہم سب نے پی ایم اے سے اکٹھے ہی مکمل کی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کورس میٹس کے بارے میں مزید آگاہی حاصل ہوئی۔ اور جب فوج میں کچھ وقت لگا لیا تو معلوم ہوا کہ ہر دور کے کورسز میں کورس میٹس تقریباً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، بس ان کی اقسام مختلف ہوتی ہیں۔ چونکہ پلاٹون میں کیڈٹس کی تعداد تیس کے لگ بھگ ہوتی ہے تو اس لیول پہ ان کی ورائٹی کچھ کم ہوتی ہے۔ تاہم ہر پلاٹون میں ایک آدھ افلاطون تو ضرور ہی موجود ہوتا ہے۔ مگر کورس لیول پہ آپ کی ملاقات سقراط اور بقراط سے بھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح چاچا مشورہ کے مفید مشورے بھی باآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ کچھ کے اندر زبیدہ آپا کی روح بھی حلول ہوتی نظر آتی ہے کہ ان کے پاس ہر چیز کا ٹوٹکا موجود ہوتا ہے۔
کوئی اپنے حکیمی اور ڈاکٹری نسخے مفت بانٹ رہا ہوتا ہے تو کوئی ستاروں کی چال اور زائچوں سے آپ کی اگلی پوسٹنگ کی نوید سنا رہا ہوتا ہے۔ ہر کورس میں شاعر بھی ہوتا ہے، ادیب بھی، گلوکار بھی اور “فنکار” تو تقریباً سارے ہی ہوتے ہیں۔
اور ان سب کو آخرت سے ڈرانے والے نیک سیرت بھائی بھی ہر کورس کی زینت ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ فیس بک اور واٹس ایپ دانشوروں کی نئی قسم بھی دریافت ہو چکی ہے۔ اب اس مختصر سی تحریر میں ان کورس میٹس کی ساری اقسام کا تذکرہ دریا بلکہ سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ مختصراً یہ کہ آپ کو ہر کورس میں عمر شریف سے لیکر مولانا طارق جمیل صاحب تک کی خصوصیات کے حامل تمام کردار بلا تردد مل جاتے ہیں۔ ان مختلف اقسام کے کورس میٹس کو عموماً انہی خصوصیات کی بنا پر دورانِ تربیت ہی ‘پی ایم اے نیم’ سے نواز دیا جاتا ہے اور پھر وہ بھلے سے جرنیل کے عہدے پر ہی کیوں نہ پہنچ جائیں انھیں تب بھی “اسی نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے”۔
ویسے بھی کورس میٹ دوسرے کورس میٹ کو اصل نام سے تو کبھی بلاتے ہی نہیں۔ ہمیشہ نام کے آخر میں الف، ہ یا بڑی ے لگا دی جاتی ہے۔ جمال کو بلاتے ہیں جمالے، کمال ہوا کمالے، عدنان کو کہتے ہیں عدنانے۔ ان سب کی تو خیر ہے مگر جمیل، عارف، آصف اور عمران وغیرہ کے نام کے آخر میں ہ لگا کر بلانے پر نجانے وہ کیوں ناراض ہو جاتے ہیں۔
دورانِ تربیت کورس میں ایکا ہونا انتہائی ضروری گردانا جاتا ہے۔ عموماً سب ساتھ ساتھ ہی چل رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی بھلا مانس کیڈٹ پلاٹون سے دائیں بائیں ہونے کی کوشش کرتا بھی ہے تو پلاٹون کی طرف سے ایک کمبل پریڈ ساری عمر کیلئے کافی ہوتی ہے۔ سویلین حضرات کے لئے کمبل پریڈ کی حقیقت بتا دوں کہ ملزم کے اوپر کمبل ڈال کر اس کی ایسی ٹکور کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے کافی ہوتی ہے۔ اور باقی کورس میٹس کیلئے نشانِ عبرت بھی۔
دورانِ تربیت اور کمیشن حاصل کرنے کے بعد بھی کسی کورس میٹ کی پریشانی، غمی اور خوشی انفرادی نہیں رہتی۔ ہم میں سے کبھی کوئی بیمار ہو کے سی ایم ایچ میں داخل ہوتا ہے تو ڈاکٹرز اور نرسز کو بیمار ڈھونڈنے میں ہمیشہ ہی دشواری کا سامنا رہتا ہے کہ بیمار کے بیڈ پہ کورس میٹس کا ہی قبضہ رہتا ہے۔ اور یہ بات بھی سچ ہے کہ ایک کورس میٹ ہی دوسرے کورس میٹ کا ‘علاج’ کر سکتا ہے وہ ڈاکٹر کے بس کی بات نہیں۔ کسی بھی کورس میٹ کی شادی پہ کورس میٹس دور سے ہی پہچان لیے جاتے ہیں وہ دلہا کے بھائیوں سے زیادہ لڈی ڈال رہے ہوتے ہیں اور دلہا کو سالے اور سالیوں سے ریسکیو کرنے کیلئے سٹیج کے ہر طرف مورچہ زن ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک بڑے ہی سیانے کورس میٹ کا قول ہے کہ جہاں سارے رشتوں کی حد ختم ہوتی ہے، وہاں سے کورس میٹ کی حد شروع ہوتی ہے۔
سیاچن کے برف پوش پہاڑ ہوں، تپتے صحرا ہوں یا دور دراز محاذِ جنگ، کورس میٹس ایک دوسرے کی ہمت اور مورال بلند کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ دوسرے شہر سے کسی کورس میٹ کی آمد کی اطلاع پر اس شہر میں موجود تمام کورس میٹس کی بیٹھک اور ضیافت پکی ہوتی ہے۔ نجانے ہماری بیگمات اس نام نہاد ‘بیچلرز پارٹی’ سے ہمیشہ کیوں خفا رہتی ہیں، جبکہ ہم سب فجر کی نماز سے پہلے ہی اپنے اپنے گھروں کو پہنچ جاتے ہیں۔
کورس میٹس ہر سال کورس کی پاسنگ آوٹ کی سالگرہ کے موقع پر ہر بڑے شہر میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ سالگرہ کا کیک کاٹا جاتا ہے، کھابے کھائے جاتے ہیں اور دیر گئے تک گپیں ہانکی جاتی ہیں۔ کورس کی سلور اور گولڈن جوبلی پر تو مع فیملیز خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور سب سے خاص بات یہ کہ گزشتہ چند سالوں سے ایک اور شاندار روایت بھی شروع ہو چکی ہے کہ پوتے، پوتیوں، نواسے اور نواسیوں والے کورس میٹس تقریباً چار دھائیوں کے بعد پھر سے پی ایم اے میں خاکی ڈانگریاں اور وردیاں پہن کر کیڈٹ بن جاتے ہیں اور پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں۔ عمرِ رفتہ کو یاد کر کے ان ‘ینگ بابوں’ کی آنکھیں نم تو ہوتی ہوں گی۔
کورس کی مالا سے جب بھی کوئی موتی جدا ہوتا ہے تو پورے کورس کو تکلیف ہوتی ہے کہ یہ کورس میٹس ایک فیملی ہی تو ہے۔ لیکن تربیتی مراحل سے شروع ہونے والا یہ رشتہ لازوال ہوتا ہے کورس میٹ کے جدا ہونے کے باوجود یہ ہماری نئی نسل سے پیوستہ رہتا ہے اور ہمیشہ رہے گا، ان شا اللہ۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جب یہ دوستی پلس تعلق نئی نسل کے آپس میں رشتہ ازواج میں منسلک ہونے پر رشتہ داری میں تبدیل ہو جاتا ہے ایسے میں کورس میٹس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔
سویلین بھائی اور دوست احباب اکثر پوچھتے ہیں کہ یار یہ تم فوجی لوگوں کا کورس میٹس سے کیا اور کیسا تعلق ہوتا ہے؟ میں کہہ دیتا ہوں کہ اس رشتے کو الفاظ کا روپ کیسے دوں؟ کورس میٹ ِشپ تو جذبات، احساسات اور ایک کیفیت کا نام ہے۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ کورس میٹس کسی بھی کورس کے ہوں ان میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے کہ یہ کئی دہائیوں کے بعد بھی آپ کو بوڑھا نہیں ہونے دیتے۔

کرنیلیاں ۔۔۔۔ لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان ریٹائرڈ
آپ کی رائے میرے لیے اہم ہے۔
abrarkhan30c@hotmail.com

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں