37

ایک اور دکھ۔۔ کس کو الزام دیں؟۔

ایک اور دکھ۔۔ کس کو الزام دیں؟۔

کچھ ہی روز گزرے ہیں، فصیح الرحمن کے بچھڑنے کی خبر ملی تھی، دل بہت غمگین ہوا، ایک اچھادوست، پیارا سا بھائی ایسے اچانک میڈیا کی بدحالی کی نذر ہو گیا، کل سردار جہانزیب کے انتقال کی خبر ملی تو دل بیٹھ سا گیا۔ یہ سال کتنے غم بھری خبریں دے گا؟۔
میں نے سردار جہانزیب کے ساتھ کبھی ایک دفتر میں کام تو نہیں کیا، نہ ہی ہماری روز روز ملاقات ہوا کرتی تھی لیکن جتنی بھی ملاقاتیں ہوا کرتیں، پریس کلب کے ایونٹس میں، کسی مظاہرہ میں۔۔ ہمیشہ بہت پیار سے ملتا اور یوں لگتا جیسے روز ملتے ہوں۔
ہم نے انتخابی مہم میں دفاتر میں جانا ہوتا تو وہاں تو سب دوستوں سے ملاقات ہوتی، سردار جہانزیب بھی ڈیسک سے اپنی روایتی مسکراہٹ سے اٹھ کر ملتا، گلے مل کے کہتا۔۔ آپ کو ضرورت نہیں ووٹ مانگنے کی۔۔ ووٹ آپ کا پکا ہے۔
دفاتر میں رہتے ہوئے جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا، تنخواہیں نہ ملنا، نیوز روم کو تالے لگنے۔۔ فون آ جانا، بھائی صاحب کام خراب ہے فوری پہنچیں۔۔ ہم بھی دوستوں کی ایسی کال کے منتظر ہوتے، جب پہنچنا اور کام ہو جانا تو ظاہر ہے دفتر میں بتانا تو نہیں تھا کہ کس نے بتایا تو زیر لب مسکرا دیتا۔
اب یہ مسکراہٹ نہیں ملے گی۔۔ بلکہ لگتا ہے کہ میڈیا کے دوستوں کے چہرے پہ یوں مسکراہٹ اب شاید ہی دیکھنے کو ملے۔۔ جو حالات اس انڈسٹری کے کر دیئے گئے ہیں سیٹھوں کے ذریعہ اس میں دور دور تک دکھ ہی دکھ دکھائی دے رہے ہیں۔
کچھ اینکرز کو سچ بولنے پہ گھر بٹھا دیا، رﺅف کلاسرا، عامر متین، نصرت جاوید اور طلعت حسین۔۔ کچھ اور نام بھی ہیں لیکن وہ پیراٹروپر اینکرز ہیں جبکہ میں صحافی اینکرز کی بات کر رہا ہوں جو تنقید بھی صحافتی اقدار کے مطابق کرتے ہیں۔
اسی طرح کچھ رپورٹرز ہیں جو آنکھوں میں چبھتے ہیں انہیں بھی گھر بٹھا دیا گیا ہے نشان عبرت بنانے کے لیے ۔۔۔ افسوس ہوتا ہے دنیا بھر میں آپ کا تجربہ آپ کو بلندیوں پہ پہنچاتا ہے، یہاں صحافت میں تجربہ ہی آپ کا دشمن بن جاتا ہے۔
سیٹھ مالکان کو یہ بات بری لگتی ہے، زیادہ تنخواہ میں ایک رکھنے سے بہتر ہے، تھوڑی تنخواہ میں بغیر تجربہ والے تین یا چار لوگ بھرتی کر لیے جائیں۔۔ خیر پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی ویسے ہی میڈیا مالکا ن اور حکومتی گٹھ جوڑ نے صحافت کے ساتھ ساتھ صحافیوں کا بیڑہ غرق بھی کر دیا ہے۔
مالکان کو اس بات سے مسئلہ نہیں کہ صحافت کا معیار کیا ہونا چاہئے، یہ تو ہمارے جیسے عامل صحافی سوچتے ہیں۔سیٹھ لوگوں کو اپنے بزنس کی فکر ہے، اس صحافتی بزنس سے زیادہ ان کاروباروں کی فکر ہوتی ہے جو صحافت کی آڑ میں بڑھتے رہتے ہیں۔
صحافت کی وجہ سے بہت سے مالکان ٹیکس کے معاملات پہ پردہ ڈالے رکھتے ہیں، حکومت کو میڈیا میں فائدہ دے کر دیگر کاروبار میں مراعات لے لی جاتی ہیں۔ عجیب ستم ہے میڈیا مالکان کہتے ہیں کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے لیکن ان کے اثاثے دن بہ دن بڑھتے جاتے ہیں۔
ایک اخبار سے کام شروع کر کے ایک انگریزی ایک اردو اخبار کے ساتھ ، ایک ہفت روزہ، ایک ماہنامہ بھی نکالتے ہیں، بارہ بارہ سٹیشن سے ڈیکلریشن لے کے اشتہار بارہ سٹیشن کے لیتے ہیں جبکہ میکنگ صرف ایک جگہ کر کے پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
قانون کے تحت اشتہار صرف اسی سٹیشن کے لیے مل سکتا ہے جہاں بیورو نہیں بلکہ مکمل دفتر ہو جہاں رپورٹنگ اور ڈیسک کے ساتھ پیج میکنگ بھی یہیں پہ ہوتی ہو۔۔ لیکن مالکان نے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے سینٹرلائزیشن کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے صحافی بیروزگار ہو رہے ہیں اور سیٹھوں کے پیٹ بڑھ رہے ہیں۔
نوائے وقت سمیت کئی اداروں کو زیرو پوائنٹ اسلام آباد میں مفت برابر پلاٹ ملے تھے جہاں صرف اور صرف اخبار ہی شائع ہو سکتا ہے،بائی لاز کے مطابق اس پلاٹ پہ بننے والی عمارت کو کسی اور مقصد کے لیے نہیں استعمال کیا جا سکتا لیکن یہاںبلڈنگ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کرایہ پہ دے کر اخبار کو ڈمی کر دیا گیا اور پھر بھی کوئی نہیں پوچھ سکتا۔
اسلام آباد سے ایک اخبار حیدر شائع ہوتا تھا جو ختم کر دیا گیا ہے ، اب اس اخبار کا دفتر تک نہیں لیکن مالکان اس بلڈنگ کا لاکھوں روپے ماہانہ کرایہ جیبوں میں بھر رہے ہیں۔ اسی طرح مساوات اخبار مدت ہو گئی ڈمی ہو چکا یا شاید ڈمی بھی شائع نہ ہوتی ہو، ادھر اپارٹمنٹس بنا کے کرایہ پہ مختلف دفاتر کو دے رکھے ہیں۔
نوائے وقت اخبار ، نیشن میں بھی سٹاف بہت کم ہو چکا، اس کی بلڈنگ کے دو فلور بھی کرائے پہ ملٹی نیشنل کمپنی کے پاس ہیں مزید کے لیے اشتہار دیا گیا ہے کرایہ کے لیے خالی ہے لیکن حکومت ان کے خلاف ایکشن نہیں لے گی کیونکہ میڈیا مالکان حکومت کے کہنے پہ ہی میڈیا کو چلا رہے ہیں سرکاری اشتہارات کی خاطر۔
صحافی نکالتے رہو، عملہ کم سے کم ہو۔۔ اشتہار اتنے ہی ملیں گے، بس حکومت کے خلاف کوئی خبر نہ ہو۔۔ صرف مثبت رپورٹنگ ہو۔۔ صحافی نکالتے رہو۔۔ سنا ہے سردار جہانزیب بھی ان دنوں بے روزگار تھے۔ اتنا تجربہ کار صحافی بے روزگار بیٹھا بیٹھا تنگ آ گیا۔۔ شہر چھوڑ کے اپنے آبائی علاقہ چلا گیا لیکن ظاہر ہے اخراجات وہاں بھی تھے۔
عید بھی آ رہی تھی، بچوں کے لیے نئے کپڑے پچھلی عید پہ بھی نہیں لے سکا ہو گا۔۔ اس عید پہ کیا کرتا؟۔۔ بس یہی غم کھا گیا ہو گیا۔۔ بقول شاعر:
لمبی نیند سلا جاتے ہیں بعض اوقات،
غم انسان کو کھا جاتے ہیں بعض اوقات
یہ بے روزگاری کا ، بچوں کی خواہشات کو رد کرنے کا غم اس کو کھا گیا ، فصیح الرحمن کے بعد سردار جہانزیب، اللہ کے حوالے دوستوں، رب کریم تمہیں جنت میں جگہ دے اور سیٹھ مالکان کو ہدایت دے ۔۔ معلوم نہیں اور کتنی جانیں لیں گے یہ سیٹھ۔۔ اپنی تجوریاں بھرتے بھرتے۔۔

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں