53

روٹی، کپڑا، مکان کے نعرہ کا سفر

روٹی، کپڑا، مکان کے نعرہ کا سفر

آپ کی دشمنی پیپلز پارٹی سے ہو سکتی ہے لیکن اس کے نعرے سے آپ کی کیا دشمنی ہے؟۔ سمجھ نہیں آتی۔۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ ذوالفقار علی بھٹو کا تھا، بھٹو سے دشمنی مان لی لیکن ان تینوں بنیادی ضروریات سے دشمنی چہ معنی وارد؟۔ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرنے کے بعد ضیا الحق نے کوشش کی اس جماعت کو ختم کرنے کی، نہیں ہو سکی۔۔ جیسے ہی ضیا الحق کی حکومت کا خاتمہ ہوا پیپلز پارٹی انتخابات جیت کر اقتدار میں آ گئی۔
شہید بھٹو کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں۔۔ لیکن روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ کسی مقدس کتاب کی طرح لپیٹ کر کسی اونچی الماری میں رکھ دیا گیا۔ احترام بہت تھا نعرہ کا لیکن اس سے احتیاط برتی جانے لگی۔
سیاسی داﺅ پیچ میں یہ نعرہ کہیں دور رہ گیا۔ پہلا دور ختم تو نواز شریف کا پہلا دور شروع، یہ نعرہ وہاں سے اٹھا کر باہر سڑک پہ پھینک دیا گیا۔۔ بھٹو یا اس نعرہ کی بات کرنا بھی ممنوع قرار پایا۔۔ کچھ ڈھائی سال یہ حکومت چلتی ہے۔
پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت بنتی ہے، یہ نعرہ بہت عزت اور تکریم کے ساتھ سڑک سے اٹھا کر ایک مرتبہ پھر چوم کے اوطاق میں سجا دیا جاتا ہے۔ نعرہ بہت مقدس ہے لیکن خبردار۔۔ کوئی اسے چھو نہ لے۔۔ پھر سوا دو سال کی حکومت کے بعد اقتدار ختم۔
نواز شریف کا دوسرا دور۔ پھر بھٹو کے نعرے ساتھ نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اونچے مقام پہ رکھا نعرہ ایوان وزیر اعظم سے نکال دیا جاتا ہے۔ ضیائی پانی سے وزیر اعظم ہاﺅس کو غسل دے کر اس نعرے کے اثرات کو دھویا جاتا ہے۔
پھر تاریخ پلٹا کھاتی ہے اور پھر ڈھائی سالہ اقتدار کو ایک فوجی حکمران ختم کر دیتا ہے۔ نواز شریف کو اب فوجی حکمران برے لگنے لگتے ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ اور یہ نعرہ لگانے والی جماعت بھلی معلوم پڑتی ہے لیکن اب دیر ہو چکی ہے۔
نواز شریف کو پہلے جیل میں سوکھی روٹی، قیدی کے کپڑے اور حوالات کا مکان دیا گیا تو انہیں قدر آئی اس نعرے کی۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا؟۔ سوچا اب اقتدار ملا تو اس نعرہ کی طاقت کا فائدہ اٹھاﺅں گا۔ اسی دوران بے نظیر بھٹو سے ملاقات ہوتی ہے۔
دونوں میں بہت سی باتیں طے ہوتی ہیں۔ میثاق جمہوریت طے پاتا ہے۔ دوسری جانب پرویز مشرف کو کسی نے بتایا جناب ایوان وزیر اعظم کے قریب ہی سڑک سے ایک نعرہ ملا ہے، بہت اچھا نعرہ ہے روٹی، کپڑا اور مکان، کہیں تو اٹھا کے اندر لے آئیں؟۔
کہا نہیں، یہ سیاسی نعرہ نہیں چلے گا۔ اسلام کا نعرہ ضیا الحق لگا چکے، ہم کیا نعرہ لگائیں یہ ڈھونڈو۔ کسی سیانے نے بتایا©: سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بالکل نیا ہے۔۔ لوگ اس پہ اعتبار بھی کر لیں گے اور روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بھی بھول جائیں گے۔نعرہ پرویز مشرف کو بھی دل فریب لگا اس لیے حکم دیا کہ یہ نیا نعرہ پھیلایا جائے، سب سے پہلے پاکستان، جبکہ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو جلا وطن کر دیا جائے۔
بتایا گیا کہ نعرہ دلوں اور زبان پہ ہوتا ہے اس لیے جلا وطن نہیں ہو سکتا، بس اسے چھپایا جا سکتا ہے۔سو حکم ہوا کہ اسے چھپا دیا جائے، چھپایا بھی ایسی جگہ جائے جہاں لوگوں کی پہنچ نہ ہو۔ایسی جگہ تو ایوان عدل ہی ہے جہاں لوگوں کی پہنچ نہیں۔ عدل تک ہرکسی کی رسائی آسان نہیں اس لیے وہاں اسے چھپا دیا گیا۔
ایک عادل ایسا گزرا جس نے وہاں یہ نعرہ چھپا دیکھا، اس نے اسے اٹھایا، صاف ستھرا کرنے کے لیے دلیلوں اور شواہد کی روشنی منگوائی اور پھر اسے انصاف کے پلڑے میں رکھا تو پلڑا برابر ہو گیا۔۔ اسے بھی پلڑا برابر کرنے کی سزا سنائی گئی لیکن منصفین نے اس سزا کو تسلیم نہیں کیا۔
وہ منصف بھی اس نعرے کو بھول گیا اور اپنی جنگ شروع کر دی۔۔ جنگ وہ جیت گیا لیکن اس وقت تک وہ یہ مقدس نعرہ کہیں اونچی جگہ رکھ کے بھول چکا تھا۔دن گزرتے رہے، آمریت کا سورج غروب ہوا، جمہوریت کا دور واپس آیا۔بھٹو کے بعد بھٹو کی بیٹی بھی شہید ہو چکی تھی۔اب بھٹو کے داماد کی حکومت تھی۔ کسی اللہ کے بندے نے کوشش کی کہ اس نعرے کو ایوان اقتدار میں پہنچایا جائے، بہت کوششوں کے بعد اس نے یہ نعرہ کسی طرح پہنچا ہی دیا۔
جب بادشادہ وقت کو خبر ہوئی تو انہوں نے فوری یہ نعرہ منگوایا اور اس کی خستہ حالی دیکھتے ہوئے اس کی پلاسٹک کوٹنگ اور نئی جلد چڑھانے کی ہدایت کی، نئی جلد اور پلاسٹک کوٹنگ سے نعرہ محفوظ ہو چکا تھا۔ اس لیے حاکم وقت نے نعرے کو شنیل کے کپڑے میں لپیٹ کے کسی اونچی سی الماری کے کسی خفیہ خانہ میں رکھوا دیا۔
اس مرتبہ پہلی بار کسی جمہوری حکومت نے گرتے پڑے ہی سہی لیکن سفر مکمل کیا۔ انتخابات میں پیپلز پارٹی شکست کھا گئی۔ اب کی بار نواز شریف کی حکومت آئی، نواز شریف نے آتے ہی اعلان کیا کہ روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ ڈھونڈا جائے، نعرہ ڈھونڈنے والے کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا۔ اچانک ایک روز انہیں اپنی الماریوں سے ہی یہ نعرہ مل گیا۔ انہوں نے فوری اسے احتراماً چوم کے واپس رکھ دیا مگر انعام کا اعلان کر چکے تھے اس لیے اپنے آپ کوہی انعام و کرام سے نوازا۔
لیجئے صاحب، دوسری جمہوری حکومت بھی اپنی مدت پوری کرتے ہوئے ختم ہو گئی۔۔ لیکن یہ نعرہ غلاف میں بند پڑا ہی رہا۔ بھلا ہو عمران خان کا ۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی کیس بنانے کے لیے الماری کے سامان کی تلاشی لی، تو نعرہ ملا۔ انہوں نے فوری طور پہ اس نعرہ کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا۔
نعرہ نیب کے حوالہ کیا، نیب نے انکار کیا تو دیامر بھاشا ڈیم کے چوکیدار سے رابطہ کیا گیا۔اس نے کئی ماہ کی عرق ریزی کے بعد بتایا اس کی سزا تو بلیک ڈکشنری میں بھی نہیں مل سکی، اس لیے اسے چھوڑ دیا جائے۔
اپنا کپتان نہ مانا اور ڈٹ کے کھڑا ہو گیا۔ الحمد للہ، کپتان کے اقدامات سے روٹی، کپڑا اور مکان کے نام سے بھی لوگوں کو چڑ ہو چکی ہے۔ روٹی اتنی مہنگی کر دی کہ لوگوں نے کھانا ہی کم کر دی، کپڑا جسم پہ تنگ ہو گیا، ستر پوشی مشکل ہو گئی۔۔ اور مکان لوگوں کے مسمار کرانے شروع کر دیئے بس ایک بنی گالہ کا مکان درست قرار پایا جو کسی صادق امین نامی شخص کا بتایا جاتاہے۔
اس کے علاوہ کسی کے پاس روٹی ، کپڑا اور مکان بچ بھی گیا تو اسے تین سال کا آخری نوٹس دیا گیا ہے اگر اس نے یہ سب کچھ حکومت کے حوالہ نہیں کیا تو اسے نیب کے حوالہ کر دیا جائے گا، جس کے بعد سے تنور پہ سادہ روٹی آٹھ سے بارہ روپے، سادہ نان بارہ سے پندرہ روپے، کلچہ پندرہ سے اٹھارہ روپے کا جبکہ پچیس والا تنوری پراٹھا پینتیس روپے کا ہو گیا۔
آج ہی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ غربت کا خاتمہ چند روز میں کر دیں گے، شاید غربت کے بجائے غریبوں کا کہا ہو، ہم ہی سن نہ سکے ہوں۔

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان
۳ اگست ۲۰۲۰

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں