18

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی سیلنگ کلب کی نئی رکنیت کے خلاف حکم امتناع جاری

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی سیلنگ کلب کی نئی رکنیت کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے بحری حکام کو 19 اگست تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کے چیئرمین امیر علی احمد، کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری احمد نواز سکھیرا اور چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کی جانب سے کلب کو سیل کرنے کے احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر توہین درخواست کی سماعت کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کیا۔درخواست گزار زینت سلیم نے عدالت کو بتایا کہ نہ تو سی ڈی اے اور نہ ہی بحری حکام نے کلب کو سیل کرنے کے حکم پر عمل درآمد کیا البتہ چیف آف نیول اسٹاف کے مشیر اشتر اوصاف علی نے اصرار کیا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق کلب کو سیل کردیا گیا ہے۔عدالت نے وکیل کی طرف سے دیے گئے بیان حلفی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سیل شدہ احاطے میں کوئی سرگرمی نہ ہو۔اس سے قبل چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کلب کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ بادی النظر میں زمین پر قبضہ اور اس پر عمارت کی تعمیر غیر قانونی اور نافذ قوانین کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اگلی تاریخ طے ہونے تک سیکریٹری کابینہ کے ذریعے وفاقی حکومت اور چیئرمین کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی احاطے کو سیل کردیں۔عدالت نے کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو وفاقی کابینہ کے سامنے اپنے اگلے اجلاس میں زیر غور لائیں کیونکہ نافذ قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تھا اور یہ عمل درآمد صرف عام شہریوں تک ہی محدود تھا۔درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ عدالت کے احکامات کے باوجود سی ڈی اے احاطے کو سیل کرنے سے گریزاں ہے۔درخواست کے مطابق کلب کو معمول کے مطابق چلایا جارہا ہے اور کلب کی انفارمیشن ڈیسک اب بھی معمول کے مطابق آنے والوں میں ممبرشپ فارم تقسیم کررہی ہے۔اس سلسلے میں مزید کہا گیا تھا کہ سی ڈی اے کو عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے احاطے میں اپنے تالے لگانے تھے اور عملہ تعینات کرنا تھا۔درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ سی ڈی اے کے ذریعے سیل کرنے کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور پی این سیلنگ کلب کی مینجمنٹ اپنے کاروباری امور کو معمول کی حیثیت سے جاری رکھے ہوئے ہے، یہ سی ڈی اے کی جانب سے قانون کے امتیازی سلوک کی ایک عمدہ مثال ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ مذکورہ بالا حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے اور جواب دہندگان کو قانون کی روح کے مطابق عدالتی حکم کی تعمیل کرنے کی ہدایت کرے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں