242

ضرورت برائے قوم

ضرورت برائے قوم

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، ریٹائرڈ

میرے دادا، دادی اور نانا میری پیدائش سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ البتہ نانی اماں جن کو ہم امی جان کہا کرتے، ہمیں پرانے وقتوں کے قصّے سنایا کرتیں۔
آباو اجداد کاروبار کے سلسلے میں حصار شہر (موجودہ بھارت) آتے جاتے رہتے تھے۔ وہاں خاندان کے کچھ افراد پہلے ہی سے مقیم تھے۔ جب کام زیادہ ہو چلا تو حصار میں ہی سکونت اختیار کر لی۔ یوں حصار شہر میں یوسف زئی پٹھانوں کا محلہ آباد ہو گیا۔ آس پاس علاقے کے لوگ جن میں مسلمان، سکھ اور ہندو شامل تھے نہ صرف اس محلے کے لوگوں کی عزّت کرتے بلکہ اپنے چھوٹے موٹے جھگڑوں اور مسائل کے تصفیے کے لیے بھی ان کی ثالثی کو معتبر جانتے۔
ادھر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے تحریکِ پاکستان اپنے عروج پہ تھی۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے 1930میں مسلمانانِ برصغیر کیلئے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ چودھری رحمت علی نے اس تصور کے نتیجے میں قائم ہونے والی ریاست کو پاکستان کا نام دیا۔ 23 مارچ 1940کو لاہور کے منٹو پارک میں (موجودہ اقبال پارک، جہاں اب مینارِ پاکستان واقع ہے) مسلمانانِ برصغیر کے عظیم الشان اجتماع میں مولوی فضل الحق نے قراردادِ لاہور پیش کی۔ یہ قرارداد ہی دراصل دو قومی نظریہ کی اساس تھی۔
امی جان یہ سب کچھ ہمیں اکثر سنایا کرتیں اور ہم ہر دفعہ یہ سب کچھ بڑے انہماک سے سنتے۔ تحریکِ پاکستان کے قصّے بیان کرتے کرتے وہ تو گویا اسی دور میں پہنچ جاتیں۔ ان کی آواز بھرا اور آنکھیں نم ہو جایا کرتیں۔ حصار میں سب ٹھیک چل رہا تھا۔ البتہ برصغیر کے دیگر حصوں کی طرح حصار شہر میں بھی ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ وہی ہندو اور سکھ جو کچھ عرصہ قبل تک اپنے مسائل اور جھگڑوں کے حل کیلئے ہمارے بڑوں کا فیصلہ بخوشی قبول کرتے اچانک مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو گئے۔
سکھ برادری ان فسادات میں سب سے آگے تھی۔ ان فسادات سے کچھ عرصہ قبل ہمارے علاقے میں سکھوں اور مسلمانوں میں کسی بات پہ تنازعہ اتنا بڑھا کہ نوبت اسلحہ کے استعمال تک جا پہنچی۔ سکھوں کا ایک جھتہ چھبیل داس نامی شخص کی قیادت میں جب ہمارے محلے میں فائرنگ کرتا کرتا آگے بڑھا تو ہمارے نانا کے بھتیجے اصغر خان نامی رشتہ دار نے ایک ہی فائر سے چھبیل داس کو جہنم واصل کر دیا۔ یہ چھبیل داس ان کا گرو تھا۔ اس کے مرتے ہی سکھوں پہ سکتہ طاری ہو گیا اور وہ دم دبا کر بھاگ نکلے۔ لیکن سکھوں نے چھبیل داس کے قتل کا مقدمہ ہمارے خاندان کے بیس سے زائد افراد کیخلاف درج کرا دیا۔ متفقہ طور پہ انگریز جج کا فیصلہ قابل قبول ٹھہرا۔ کیس چلا اور بالآخر انگریز جج نے اصغر خان اور نواب احسن خان کو مخاطب کر کے کہا کہ گولی آپ دونوں میں سے کسی ایک نے چلائی ہے اب کس نے چلائی ہے یہ خدا جانتا ہے۔ اس لیے شک کی بنیاد پر میں دونوں کو بری کرتا ہوں۔ اس فیصلے سے سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض اور بڑھ گیا۔
ہندوو¿ں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ ماو¿ں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی۔ بچوں کو ماو¿ں کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا۔ کرپان سے مسلمان کے گلے کاٹے گئے۔ کمسن بچوں کے سر کلہاڑی کے وار سے تن سے جدا کیے گئے۔ نومولود بچے نیزوں اور برچھیوں کی زد پر تھے۔کم و بیش دس لاکھ مسلمان اپنی جانوں سے گئے۔ ہماری ماو¿ں، بہنوں اور بیٹیوں کو اجتماعی درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔
ہمارے دادا فیروز پور جا بسے تھے۔ حالات بدستور خراب تھے۔ تقسیم کے وقت ہمارے دادا بمشکل اپنے بچوں کو سمیٹ کر اٹک (کیمبلپور) تک ہی پہنچ سکے اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ خاندان کے دوسرے افراد کیلئے ربِ کائنات نے ملتان کو مسکن بنا دیا۔ حالات معمول پہ آئے تو ایک دوسرے کا اتا پتا چلا، رابطے بحال ہوئے۔ یوں آنے والے وقتوں میں ملتان میرا ننھیال اور اٹک میرا دھیال ٹھہرا۔
امی جان بتایا کرتیں کہ ان کے ساتھ ہجرت کر کے آنے والوں میں ایسی عورتیں شامل تھیں جن کے مرد ان کی آنکھوں کے سامنے برچھیوں اور نیزوں سے قتل کیے گئے، ان کی بچیوں کو اجتماعی درندگی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ بت بنے وہ بےبس مرد بھی ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے جن کی ماو¿ں، بہنوں، بیویوں اور بچیوں کی عزّتوں کو تار تار کیا گیا۔ گھروں کو نظرِ آتش کر کے پورے گھرانوں کو زندہ جلایا گیا۔ یہ سب بیان کرتے کرتے امی جان کی ہمت جواب دے جایا کرتی۔ ان کی ہچکیاں بندھ جاتیں اور ان کے ساتھ ساتھ سب کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔
یہ پاکستان ہمیں ایسے ہی نہیں مل گیا۔ لاکھوں لوگوں کا خون شامل ہے اس کی مٹی میں۔ کون ہیں وہ لوگ جو ہندوو¿ں کو مخاطب کر کے بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ہمارے اور آپ کے درمیان ایک لکیر (بارڈر) کا ہی تو فرق ہے اور یہ کہ ہماری ثقافت اور تہذیب وتمدن ایک ہی ہے۔ ہم اللہ کو اور آپ ایشور کو مانتے ہیں ( نعوذ باللہ)۔ یہ دو قومی نظریہ کی نفی ہی تو ہے۔
امی جان پاکستان کے بارے میں بہت جذباتی تھیں۔ وہ ہمیں تحریکِ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے بارے میں بار بار اس لیے بتاتی تھیں تاکہ ہماری نسل اپنے پرکھوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے۔ یہی کام ہمارے قابلِ احترام اساتذہ بھی کیا کرتے۔ ہر سال 14 اگست کا سورج نئی آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوتا۔ دن کا آغاز پاکستان کی سالمیت کی دعاو¿ں سے شروع ہوتا۔ شہدائے تحریکِ پاکستان کے بلند درجات کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جاتیں۔ علامہ اقبال کے لہو گرما دینے والے اشعار طالبِ علموں کی تقاریر کو وہ معانی دے جاتے کہ سننے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ بچہ بچہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوتا۔ علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناح کی روحوں کو ایصال ثواب کیلئے لوگ ان کے مزارات پہ عزّت و احترام کے ساتھ حاضری دیتے۔
کل بھی 14 اگست 2020 کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوا۔ پاکستان کی سالمیت اور شہدائ تحریکِ پاکستان کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں۔۔۔مگر افسوس صد افسوس اقبال کے لہو گرما دینے والے اشعار کی جگہ ہمیں باجوں کا بھونڈا شور سنائی دیئے۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا: لا الہ الااللہ کے نعروں کی گونج سائلنسر نکلے موٹر سائیکلوں کے شور میں دب گئی۔ قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال کے مزارات پہ دعائے مغفرت کی جگہ ہلڑ بازی نے لے لی۔ موٹر سائیکلوں کو ایک پہیہ پہ چلانا حب الوطنی کے جذبے پہ غالب ٹھہرا۔
اقبال کے شاہین کی پرواز میں کوتاہی آ گئی۔ ہائے ہمارے نئی نسل کے پاو¿ں کہاں لڑکھڑا گئے؟ کیا اقبال نے اسی مسلم مملکت کا خواب دیکھا تھا؟ کیا ہم اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یکسر بھول چکے ہیں۔۔۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اقبال کے اصل مخاطب ہمارے نوجوان ان کے اس شعر کی حکمت کو تو سمجھ ہی لیتے:-
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیرِ امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاوس و رباب آخر
آج سے چوہتر سال قبل ایک قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی۔۔۔مگر آج پاکستان کو ایک قوم کی ضرورت ہے۔۔۔کیا ہم پھر سے ایک قوم بن پائیں گے؟ ذرا سوچئے!

آپ کی رائے میرے لیے اہم ہے۔
abrarkhan30c@hotmail.com
03404303030

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں