403

قدم بڑھاﺅ کامران خان۔۔

قدم بڑھاﺅ کامران خان۔۔

یار لوگ ویسے ہی ناراض ہو گئے ہیں کامران خان صاحب سے۔۔ ایک انٹرویو ہی تو دیا ہے انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو۔۔۔ اور اپنے وزیر اعظم بھی اچھے اینکرز کی طرح اچھی طرح سنتے رہے، تکرار کی نہ بحث۔۔ اتنا شاندار انٹرویو کرنے پہ ہم وزیر اعظم کو مبارکباد دیتے ہیں۔
وزیر اعظم بحث کرتے بھی تو کیسے، ان کے سوالات بلکہ ذہن میں چھپے سوالات کا جواب اس طرح دیا کہ چھا گئے۔ منہ توڑ جواب کچھ زیادہ ہو جائے گا، معذرت چاہتا ہوںیہ کہہ لیں کہ کامران خان نے وزیر اعظم کا چہرہ پڑھ لیا اور ذہن بھی۔۔
وزیر اعظم جو سوال سوچ کے پریشان تھے کہ یہ ہو گئے تو کیسے جواب دیں گے تو ان کی اس پریشانی کا ایسا شاندار علاج کیا کامران خان صاحب نے کہ کیا کہنے۔۔ جناب ایسے ایسے جوابات دیئے کہ وزیر اعظم بھی پریشان ہو گئے۔
کامران خان نے جب وزیر اعظم کو بتایا کہ ان کی حکومت کیا کچھ کر چکی ہے تو خود عمران خان کا ہانسا نکلتے نکلتے رہ گیا۔۔ بہت مشکل سے انہوں نے بقول زرتاج گل اپنی کلر سمائل سے ہی کام چلایا ورنہ شاید ایک گھنٹے کے انٹرویو میں چالیس منٹ تو ہنستے ہی رہتے اپنے وزیر اعظم۔۔
معیشت کیسے بہتر ہوئی ہے یہ اور کب بہتر ہوئی یہ انہیں کامران خان نے بتایا تو وزیر اعظم نے دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ اسی شخص کو اگلی مرتبہ وزیر اقتصادی امور لگایا جائے گا ورنہ وزیر اطلاعات کی نوکری تو پکی ہی ہے، کوئی نہیں چھین سکتا کامران صاحب سے یہ اعزاز۔۔
میرے خیال میں آج تک حامد میر، کاشف عباسی اور ارشد شریف تو غالباً دھول ہی پھانکتے رہے ہیں، درست کہتے ہیں کامران صاحب وہ تحقیقاتی رپورٹنگ کے بادشاہ ہیں۔ ایسی تحقیقات کی ہیں کہ حکومت بھی تحقیقات کرانے پہ مجبور ہو گئی ہے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟۔
آئی بی کے ڈی جی کو وزیر اعظم نے انٹرویو کے فوری بعد ٹاسک دیا ہے کہ وہ چیک کریں کہ وہ پاکستانی شہری جو مہنگائی کا راگ الاپ رہے ہیں، ملکی معیشت کی تباہی کا رونا رو رہے ہیں انہیں کیوں نہیں معلوم ہو سکا کہ ملکی معیشت نے ترقی کر لی ہے۔
مہنگائی پہ حکومت نے قابو بھی پا لیا ہے لیکن عوام چیخ رہے ہیں۔۔ کچھ تو گڑبڑ ہے، شاید کامران خان کی نظر سکس بائی سکس ہے یا نئی عینک لگوائی ہے۔۔ ایسی ہی عینک اگر پوری قوم کو خرید کے دے دی جائے تو ہمارا ملک تو جنت ہی بن چکا ہے بس اعلان ہونا باقی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کو ان کے کئی قریبی ساتھیوں نے یہ بتایا ہے کہ شاید میاں نواز شریف ملک سے جاتے ہوئے عوام کی آنکھوں میں جو دھول جھونک کے گئے تھے اسے صاف کرانے کی ضرورت ہے، ٹماٹر اگر چالیس روپے سے ایک سو بیس روپے کلو ہوا ہے تو یہ دیکھا جائے کہ نواز شریف نے ان قیمتوں کو مصنوعی طریقہ سے روکا ہوا تھا۔
حکومت کو کیونکہ تصنع اور بناوٹ پسند نہیں اسی لیے اشیاءکو ان کی اصلی قیمت پہ واپس لایا گیا ہے۔پٹرول کے نرخ تو عالمی منڈی میں بڑھے ہیں۔۔ اگر ہم نے بڑھائے تو کیا غلط کیا؟۔ اب حامد میر کی طرح یہ مت پوچھنا کہ پٹرول کی قیمت کم کرنے پہ شکریہ عمران خان کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پہ کیوں چلایا گیا؟۔
پٹواری سوچ۔۔
میں تو یہ سوچ سوچ کے پریشان ہوں کہ اب ہمارے پیر و مرشد صالح ظافر صاحب کا کیا بنے گا؟۔ کامران خان نے جس طرح مورچہ سنبھالا ہے صالح ظافر تو کیا حضرت عطا الحق قاسمی بھی فارغ تو میرا بھائی ارشاد بھٹی اور عارف حمید بھٹی بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
صالح ظافر نے کبھی کی ہو گی اخبار میں لفاظی۔۔ وضو کرنے کے طریق کار پہ۔۔ چہرہ پہ نور آنے کی گواہی دی ہو گی لیکن یقین مانئے جس طرح کامران خان صاحب نے الیکٹرانک میڈیا پر وضو کے فضائل و برکات پہ روشنی ڈالی ہے مولانا طارق جمیل صاحب بھی عش عش کر اٹھے ہوں گے۔
پھر اپنی حب الوطنی کا جب ذکر کیا تو ظفر ہلالی اور امجد شعیب بھی سر دھننے لگے۔۔ کمال کا سوفٹ وئیر۔۔ معاف کیجئے گا کمال کا دماغ پایا ہے کامران صاحب نے۔۔ یہ بات تو اب طے ہے کہ معیشت نے ترقی کر لی ہے۔ پاکستان کی آواز دنیا بھر میں اب سنی جا رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے ریکارڈ قرضہ لیا ہے۔۔۔ اور یہ بات صرف عوام کو سمجھانے کی ہے کہ جب معیشت ترقی کرتی ہے تو آئی ایم ایف سے پیسہ آتا ہے، جب زیادہ ترقی ہوتی ہے تو زیادہ قرضہ آتا ہے۔ بہت سادہ سا فارمولہ ہے۔
اسی طرح دیکھئے ناں پاکستان کی آواز دنیا بھر میں سنی جا رہی ہے اسی لیے مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے اپنا حصہ بنانے کا اعلان کیا تو کسی ملک نے اس پہ اسے روکا نہیں بلکہ چاچا ٹرمپ نے مودی کو ساتھ کھڑا کر کے جلسہ کیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ اسرائیل اور بھارت ان کے دونوں بازو ہیں۔
چلیں امریکا تو چھوڑیں حضرت ہمارے ساتھ تو ہمارے برادر اسلامی ممالک وہ کر رہے ہیں جو کبھی نہیں ہوا۔۔ جو کبھی پاکستان کا سفیر بن کے گیا تھا وہ اب کہتا ہے میرا پیسہ واپس کرو۔۔ غلام ہو تو غلام بن کے رہو۔۔ مالک بننے کی کوشش نہ کرو۔۔
رب کریم کامران خان کی ہمت میں اضافہ کرے اور وہ اسی طرح حکومت کو کرارے جواب دیتے رہیں۔ قدم بڑھاﺅ کامران خان ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

قلم درازیاں ۔۔۔ اکیس اگست ۲۰۲۰
(یہ کالم آج بائیس اگست کو روزنامہ کسوٹی پشاور میں شائع ہوا)

PMimrankhan#
kamrankhaninterview#
Kasoti#

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں