39

مساجد میں فائرنگ کرکے 51نمازیوں کو شہید کرنے والے برینٹن کو تاریخ کی بدترین سزا سنا دی گئی

ویلنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک رپورٹ) نیوزی لینڈ کی عدالت نے مساجد میں فائرنگ کرکے 51 نمازیوں کو قتل کرنے والے برینٹن ٹیرنٹ کو بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا سنادی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس سزا سے کرائسٹ چرچ کی مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد کو کسی بھی صورت معافی کا حق حاصل نہیں ہوگا.واضح رہے کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مجرم کو ایسی سزا سنائی گئی ہے۔سفید فام نسل پرست 29 سالہ آسٹریلیائی شہری برینٹن ٹیرنٹ نے 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں فائرنگ سے 51 مسلمانوں کو قتل، 40 اقدام قتل اور دہشت گردی کے جرم کا اعتراف کیا تھا اور جسے اس نے فیس بک پر براہ راست دکھایا بھی تھا۔جمعرات کو ہائیکورٹ کے جج کیمرون مینڈر نے کرائسٹ چرچ میں کہا کہ سزا کی کوئی معینہ مدت کافی نہیں ہوگی۔جج نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ ‘تمہارے جرائم اتنے گھناؤنے ہیں کہ اگر مرنے تک تم کو حراست میں رکھا جائے تو بھی سزا اور مذمت کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاسکے گا’۔انہوں نے کہا ‘جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں، تم اپنے متاثرین کے لیے ہمدردی سے بھی خالی ہو’۔بھورے رنگ کے جیل کے لباس میں ملبوس، گارڈز سے گھرے ہوا برینٹن ٹیرنٹ نے اپنی سزا پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔استغاثہ نے اس سے قبل عدالت کو بتایا تھا کہ برینٹن ٹیرنٹ ان لوگوں میں خوف پھیلانا چاہتا تھا جن کو وہ خطرہ سمجھتا تھا اور اس نے احتیاط سے منصوبہ بنایا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ قتل عام کرے۔فائرنگ کا نشانہ بننے والی النور مسجد کے امام جمال فودہ نے کہا ‘آج اس گھناؤنے جرم کی قانونی کارروائی پوری ہوگئی ہے، کسی بھی سزا سے ہمارے پیاروں کو واپس نہیں لایا جاسکتا’۔انہوں نے کہا کہ ‘انتہا پسند سب ایک جیسے ہیں، چاہے وہ مذاہب، قوم پرستی یا کوئی اور نظریہ استعمال کریں، تمام انتہا پسند نفرت کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن آج ہم یہاں ہیں، ہم محبت، ہمدردی، مسلمان اور غیر مسلم لوگوں اور عقیدے کے احترام کرتے ہیں’۔برینٹن ٹیرنٹ جس نے سماعت کے دوران اپنی خود نمائندگی کی لیکن کسی قسم کی سفارشات پیش نہیں کیں، نے جمعرات کو عدالت میں ایک وکیل کے ذریعہ کہا کہ اس نے پیرول کے بغیر عمر قید کے لیے استغاثہ کی درخواست کی مخالفت نہیں کی ہے۔جج کا کہنا تھا کہ ‘یہ نفرت جو آپ کے دل میں مخصوص برادری کے لیے ہے جس کے لیے آپ قتل کے ارادے سے اس ملک میں آئے تھے، اس کی یہاں کوئی جگہ نہیں ہے، اس کی کہیں بھی جگہ نہیں ہے’۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘اسے کبھی سورج کی روشنی نہیں نصیب ہوگی’۔ان کا کہنا تھا کہ ’15 مارچ کا صدمہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوسکتا لیکن مجھے امید ہے کہ آج کا دن وہ آخری دن ہے جس میں ہم اس دہشت گرد کا نام سنیں گا’۔انہوں نے کہا کہ وہ پوری زندگی کے لیے مکمل خاموشی کا مستحق ہے’۔انہوں نے متاثرین کے لواحقین کی تعریف کی جنہوں نے رواں ہفتے عدالت میں جذباتی بیانات دیتے ہوئے برینٹن ٹیرنٹ کو بغیر کسی پیرول کے عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ ‘میں اپنی مسلم برادری کی قوت کو تسلیم کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے گزشتہ دنوں عدالت میں اپنی باتیں کہیں، آپ نے 15 مارچ کے خوفناک واقعے اور اس کی وجہ سے ہونے والے درد کو دوبارہ زندہ کیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘تکلیف کسی بھی طرح دور نہیں ہوگی لیکن مجھے امید ہے کہ اس سارے عمل کے دوران آپ نے اپنے آس پاس نیوزی لینڈ کی ہمدردی کو محسوس کیا ہو گا اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کو یہ محسوس ہوتا رہے گا’۔جج نے برینٹن ٹیرنٹ کو سزا سنانے سے قبل پوچھا کہ اگر اسے کچھ کہنا ہے تو اس نے سر ہلادیا، جب اسے بتایا گیا کہ اسے اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے تب بھی اس نے کچھ نہیں کہا۔
آج سنائی گئی سزا کے اہم نکات یہ ہیں:
نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق مساجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد کو سنائی گئی سزا کے اہم نکات یہ ہیں.
• عدالت سے ‘واضح طور پر نیوزی لینڈ کے بدترین قاتل’ کے لیے بغیر کسی پیرول کے عمر قید کی سزا سنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
• برینٹن ٹیرنٹ نے زندگی بھر کے لیے جیل میں رہنے کی مخالفت نہیں کی۔
• اس نے قبل از سزا ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ وہ نسل پرست یا دیگر قومیت کو ناپسند کرنے والا نہیں تھا۔
• اس نے کہا کہ اس وقت اس کے سیاسی اور معاشرتی نظریات حقیقی نہیں تھے، وہ خود کو بے دخل محسوس کرتا تھا اور معاشرے کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
• تاہم اس نے یہ قبول کیا کہ یہ بلا شبہ ایک دہشت گرد حملہ تھا۔
• عدالت نے کہا کہ یہ واضح طور پر نظریاتی بنیاد پر تھا، برینٹن ٹیرنٹ ایک خطرناک نفسیاتی شخص تھا جس پر بغیر کسی پیرول کے عمر قید واجب ہوئی۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں