81

مجید اچکزئی عزت کے ساتھ رہا۔

مجید اچکزئی عزت کے ساتھ رہا۔

کوئٹہ میں ایک سابق ایم پی اے نے دن دیہاڑے ایک ٹریفک اہلکار پہ گاڑی چڑھا دی تھی۔۔۔ اس اندوہناک سانحہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود تھی اور وہ گرفتار بھی ہو گیا تھا لیکن عدالت پیشی پہ بھی کیمرہ مین اس کی فوٹیج بنانے سے ڈرتے تھے۔
اتنے بڑے سردار سے کون پنگا لے۔۔۔ عبد المجید اچکزئی کا تعلق کسی حکومتی جماعت سے نہیں بلکہ ان کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے ہے۔۔ یعنی یہ بھی نہیں کہا جا سکتا حکومت اس کیس میں دباﺅ ڈالتی رہی۔
یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب جون ۲۰۱۷ میں کوئٹہ کے جی پی او چوک میں ٹریفک وارڈن حاجی عطا اللہ ڈیوٹی کر رہا تھا۔۔ ٹریفک سگنلز نہیں تھے اس لیے وہ خود ٹریفک کنٹرول کر رہا تھا۔ عام شہری اس کے اشارے پہ رکتے تھے اور چلتے تھے لیکن ظاہر ہے ایک سردار، ایک زمیندار، ایک دولت مند بھلا کیوں ایک دو ٹکے کے سپاہی کی سنے؟۔
غالباً اس چھوٹی سی سڑک پہ کم از کم ڈیڑھ سو کلومیٹر کی رفتار سے جب ایک سردار گزر رہا تھا تو جرات کیسے کی ایک معمولی وارڈن نے کہ وہ پشت سردار کی طرف کر کے کھڑا رہا۔ پروٹوکول کا تقاضا تھا کہ وہ سڑک خالی کراتا اور اچکزئی صاحب کو سیلوٹ کرتا ۔
نہ اس نے جھک کے سلام کیا بلکہ پیٹھ موڑ کے کھڑا رہا گستاخ۔۔ اس کو تو سزا ملنی چاہئے تھی۔۔ اوقات ہی کیا ہے اس ملک میں غریب کی زندگی کی؟۔۔ چند لاکھ روپے ورثا کو دے دینا، دیت ادا کرو۔۔نقصان پورا کرنے کے لیے اپنی زمین سے اگنے والا اناج مہنگا کرنا کون سا مسئلہ ہے؟۔
ہم نے پہلے بھی تو یہی دیکھا ہے۔۔ غریب کی جان لو اور دیت ادا کر دو۔۔۔ ریمنڈ ڈیوس بھی تو یہاں سے فاتحانہ انداز میں رخصت ہوا تھا۔۔ پھر شاہ رخ جتوئی۔۔ جیل میں بھی فائیو سٹار سہولیات لیتا رہا۔۔
حاجی عطا اللہ کے قاتل نے بھی ورثا کے گھر چند نوٹوں کی گڈیاں بھجوا دیں ، قانون کو تو سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی ہی نہیں دیتی۔۔ گرفتاری کے وقت تو پولیس نے دہشت گردی کی دفعات بھی ایف آئی آر میں شامل کیں تو عدالت نے وہ دفعات ختم کر دیں۔۔
ظاہر ہے دہشت گردی کی دفعات تو جج صاحب کے ساتھ گستاخی کرنے والوں کے خلاف ہی لگ سکتی ہے۔۔ اور وہ دفعات ختم کرانے کے لیے راولپنڈی کے ایک بڑے محترم پیر صاحب کے فرزند کو اخبار میں معافی کے اشتہار دینا پڑے تھے۔
دہشت گردی کی دفعات ختم نہیں ہو سکتی تھیں لیکن جب جج صاحب کی انا کی تسکین اخباری اشتہارات سے ہو چکی تو نامعلوم قانون کے تحت وہ دہشت گردی کی دفعات ختم ہو گئیں۔۔ ظاہر ہے یہاں ایک سیاستدان کی گاڑی تیزی سے جج صاحب کی گاڑی کو اوور ٹیک کر کے نہیں گئی تھی۔
ایک ٹریفک اہلکار کو کچلا ہی تو تھا۔۔ جو اپنی سرکاری ڈیوٹی کر رہا تھا۔۔ ساری زندگی بھی کماتا رہتا تو اتنا نہ کما پاتا جتنا اس کے گھر والوں کو اس کے مرنے کے بعد دیت کے طور پہ مل گیا۔۔ وہ تو چلو اندر سے دکھی ہوں گے، وڈیرے کا خوف ہو گا، جج صاحب نے کیسے بری کر دیا؟۔
اس عدالتی نظام کی پھرتیاں صرف مخصوص کیسز میں کیوں دکھائی دیتی ہیں؟۔۔ یہاں ایک وزیر اعظم کو سزا دینے کے بعد معاملہ کی تحقیقات کرانے کا حکم دے کے اس تحقیقات پہ ایک جج کو نگران بنایا جاتا ہے۔ اس کیس میں بار ثبوت ملزم پہ ڈالا جاتا ہے لیکن ایسا ہی ایک اور کیس عدالت میں آنے پہ معاملہ تبدیل۔
مستقبل کے وزیر اعظم پہ ایسے ہی الزامات لگے تو بار ثبوت مدعی پہ ڈال دیا گیا۔۔۔ پھر مدعی کو بھی ایک ایسے کیس میں پھنسایا گیا کہ بے چارہ مشکل سے ہی باہر آیا۔ نیب کیسز کے ذریعہ ایک جماعت کو دیوار سے لگایا جاتا رہا، یہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ہی لکھا گیا ہے لیکن وہ نیب اب بھی برقرار ہے۔
یہاںایسا بھی ہوا کہ جمشید دستی نے پانی نہ کھولنے پہ ایک سرکاری بیلدار کو تھپڑ مارا اور خود پانی کھول دیا۔۔ موقع پہ انصاف کر دیا، اس کی وڈیو وائرل ہوئی۔۔ کیس چلا، پھر جمشید دستی جو غریب ہونے کا دعویدار تھا وہ جیل برداشت نہیں کر سکا، شور مچا دیا کہ جیل میں بچھو چھوڑا گیا، چیف جسٹس انصاف دیں۔
چیف جسٹس نے فوری انصاف کیا۔۔ کہنے لگے کہ وڈیو کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔۔ یہ جعلی بھی ہو سکتی ہے۔۔ جمشید دستی بری ہو گیا۔۔ بلکہ باعزت بری ہو گیا۔ اس سے پہلے بھی جمشید دستی جعلی ڈگری پہ نااہل ہونے سے بچ گیا تھا۔
ٹھیک آج اسی طرح عبد المجید اچکزئی بھی با عزت بری ہو گیا، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی۔۔ ایک ٹریفک اہلکار کو اپنی گاڑی سے کچلا، پھر وہاں سے بھاگ نکلا۔۔ عدالت بھی دباﺅ میں تھی کہ دہشت گردی کی دفعات کیس سے ختم کر دیں۔
دہشت گردی صرف بم مارنا، گولی سے مارنا تو نہیں۔۔ طاقت کے نشے میں چور ہو کر کسی غریب کو اپنی گاڑی سے کچل دینا بھی تو دہشت گردی ہے لیکن اگر شاہ رخ جتوئی دہشت گرد نہیں تو پھر عبد المجید اچکزئی نے تو کچھ غلط نہیں کیا۔
شاہ رخ جتوئی نے تو ایک غیرت مند بھائی کے سامنے اس کی بہن سے بدتمیزی کی، بھائی کے روکنے پہ بھائی کو مار ڈالا۔۔ لیکن وہ بھی دہشت گرد نہیں تھا۔۔ کیونکہ اس نے بھی تو دیت ادا کر دی تھی ناں۔۔ ویسے شکر ادا کریں کہ کلبھوشن یادیو کو اس دیت کے قانون کا علم نہیں ورنہ وہ بھی باعزت بری ہو سکتا ہے۔

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان
۹ ستمبر ۲۰۲۰

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں