239

گھر بیٹھے لاکھ پتی بنیں۔۔

میٹرک کے بعد فراغت ہی فراغت تھی، ہر وقت کرکٹ اور فٹ بال کھیل کھیل کے اکتا چکا تو سوچا کیا کروںَ؟۔پھر خیال آیا اور کچھ کروں نہ کروں کچھ ایسا کروں کہ اپنے والد کا ہاتھ بٹا سکوں۔
بس اسی سوچ میں غلطاں مارکیٹ میں پھر تے پھرتے خیال آیا اور میں پرانی کتابوں کی دکان میں داخل ہو گیا۔ یہاں کچھ دیر کی تلاش کے بعد مجھے وہ نسخہ مل ہی گیا جس کی تلاش تھی۔ میں نے وہ کتاب جھٹ اٹھا لی، قیمت پڑھی پندرہ روپے۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو صرف گیارہ روپے چار آنے برآمد ہوئے۔
میں نے جب وہ رقم دکان والے کے ہاتھ میں دھری تو مجھے یقین تھا وہ کتاب میرے ہاتھ سے چھین کر واپس رکھ دے گا اور میرے پیسے میرے ہی منہ پر دے مارے گا اس لیے حفظ ما تقدم کے طور پر میں نے ایک ہاتھ اپنے خوبصورت چہرہ کے سامنے رکھ لیا کیونکہ نوٹوں کی تو خیر تھی سکے سے چہرہ پر ڈینٹ پڑنے کے قوی امکانات تھے۔
میری توقع کے خلاف دکاندار نے پیسے دراز میں ڈالتے ہوئے کتاب لفافے میں ڈال کر میرے ہاتھ میں تھما دی۔ راستے میں ایک بے تکلف دوست مل گیا گپ شپ کے دوران پوچھنے لگا لفافہ میں کیا ہے؟۔
میں نے جلدی سے بات بنائی کہ ابو جی نے کتاب منگوائی ہے مجھے یہ کتاب جلدی سے گھر پہنچانی ہے۔
جیسے ہی وہ دوست نظروں سے اوجھل ہوا میں نے سکھ کا سانس لیاآخر پیسے کمانے کا نادر نسخہ میں کسی اور کے ساتھ کیسے شیئر کر سکتا تھا۔ جی ہاں۔ کتاب تھی گھر بیٹھے لکھ پتی بنئے، فیکٹری کی ضرورت نہیں گھر پہ ہی صابن اور شیمپو بنائیں۔
اب بتایئے میں اپنے کاروبار میں کسی اور کو ساجھے دار کیوں بناتا؟۔گھر آ کے کتاب میں نے اپنے بستر کے نیچے چھپا دی۔ اب میں نے غور سے کتاب پڑھنا شروع کی۔ کتاب پڑھتا گیا تو معلوم ہوا یہ کام تو مشکل قطعاً نہیں۔ اور اتنے سستے بن جانے والے صابن اور شیمپو کے یہ کم بخت کتنے دام وصول کرتے ہیں؟۔ میں نے سوچا
کتاب پڑھی تو معلوم ہوا کہ صابن اور شیمپو بنانے کے لیے کچھ سامان تو گھر میں موجود ہو گا مگر کچھ سامان اور خریدنا ہو گا۔ محلہ میں صوفی صاحب کی دکان تھی۔ میں وہاں پہنچا اور کسی طرح ان سے مبلغ اٹھارہ روپے کا سامان ادھار پر لینے میں کامیاب ہو ہی گیا۔
اب مسئلہ تھا رازداری کے ساتھ اپنا مشن مکمل کرنا۔ اس کے لیے میں نے پچھلے صحن کا انتخاب کیا اور سامان لے کر وہاں چھپا دیا۔ اگلی صبح میں نے پہلی بار فجر کے وقت اٹھ کر نماز ادا کی ۔ امی جی نماز پڑھنے اٹھیں تو اپنے بیٹے کو نماز پڑھتا دیکھ کر نہال ہو گئیں۔خوب پیار کیا۔
نماز کے بعد جب امی جی قرآن پاک پڑھنے کمرے میں گئیں تو میں نے اپنی فیکٹری کھول لی۔ سب سے پہلے میں نے شیمپو بنانا شروع کیا۔ معلوم ہوا کام اتنا آسان بھی نہیں تھوڑی ہی دیر میں سب گھر والے جاگنا شروع ہوئے تو مجھے اپنی فیکٹری بند کرنا پڑی۔
اگلی صبح پھر اسی طرح اٹھا، نماز کے بعد فیکٹری کھولی اور کب دو گھنٹے گزرے پتا ہی نہیں چلا، سب کے اٹھ جانے پر پھر فیکٹری بند کرنا پڑی۔ تاہم اس روز میں شیمپو بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا اور صابن بنانے پر بھی کام شروع ہو چکا تھا۔
چوتھے روز جب سب گھر والے اٹھنا شروع ہوئے تو میرا کپڑے دھونے والا کمرشل صابن بھی تیار ہو چکا تھا۔اس لیے میں نے فیکٹری کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ظاہر ہے اب یہی ہمارا خاندانی کاروبار ہونے والا تھا، میرے چہرہ اس وقت خوشی سے جگمگا رہا تھا کیونکہ کئی روز کی محنت کے بعد میں نہ صرف ایک بوتل شیمپو بلکہ کپڑے دھونے والے صابن کی بھی بارہ چاکیاں بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
سب گھر والے حیران رہ گئے کہ سب سے بعد میں اٹھنے والا سپاہی اتنی جلدی کیسے جاگ گیا۔جب انہیں میرے کارنامے کا علم ہوا تو سب بہت خوش ہوئے۔ ابو جی بولے چلو پھر آج یہی شیمپو استعمال کروں گا، باجی بولیں ابھی واشنگ مشین چلاکر اپنے گھر میں بنے صابن سے کپڑے بھی دھو لیتے ہیں۔
ابو جی باتھ روم کی جانب بڑھے تو میں نے لپک کر شیمپو کی بوتل ان کو پکڑائی انہوں نے بہت پیار سے مجھے دیکھا۔ میں نے صابن کی ٹکیہ باجی کو تھمائی انہوں نے بھی پیار سے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا، پھر انہوں نے جب مشین چلائی تو سب اشتیاق کے ساتھ اسے دیکھنے لگے۔
باجی بولیں جھاگ تو بہت اچھے بن رہے ہیں۔ بھائی جان بولے جھاگ چھوڑو دیکھو کتنی بھینی بھینی خوشبو آ رہی ہے۔ امی جی نے کہا چلو دیکھتے ہیں کپڑے بھی صاف دھلے ہیں یا نہیں؟۔
میں نے واشنگ مشین بند ہونے پر کپڑے نکالنے کے لیے ہاتھ ڈالا تو وہاں کپڑا تو کوئی نہ ملا البتہ ایک قمیض کا کالر اور چند بٹن میرے ہاتھ آئے۔ غالباًمیرے بنائے صابن کی تیزابیت نے کپڑے ہی کھا لیے۔ بہت مشکل سے میرے منہ سے نکلا کپڑے تو نہیں رہے بس یہ کالر اور چند بٹن بچے ہیں۔
میرا نیا کرتا۔۔۔ بھائی جان چیخے۔۔ ٹھہر جا ابھی بتاتا ہوں۔اسی صابن سے تجھے بھی نہلا تا ہوں۔
اتنے میں باتھ روم کا دروازہ کھلا اور باجی چیخیں ابو کے بال کہاں گئے۔۔۔ میں تو صدمے سے بے ہوش ہی گیا کیونکہ ابو جی میری جانب بڑھ رہے تھے اور بے ہوش ہونے سے پہلے جو چیز مجھے دکھائی دی وہ ابو کے ہاتھ میں چپل تھی، دوسرے ہاتھ میں وہ ظالم شیمپو کی بوتل۔

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان

(نوٹ: یہ تحریر میرے لڑکپن کے دور کی ہے ، ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے کے یوتھ پروگرام میں پڑھی، پروڈیوسر تھیں شمع خالد صاحبہ)

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں